شام کے تنازعے میں باغیوں کی باہمی لڑائی کا مطلب؟

- مصنف, جِم میور
- عہدہ, بی بی سی، بیروت
شام میں القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم آئی ایس آئی ایس (دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام) اور دیگر باغی گروہوں کے مابین پانچ دن سے جاری جھڑپوں میں 400 جنگجو اور عام شہری مارے جا چکے ہیں۔
شام میں اس سے پہلے ہی ایک جنگ کے اندر ایک اور جنگ جاری ہے، جس میں ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں کرد اپنے اکثریتی علاقوں پر اپنا غلبہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہاں اسلامی شدت پسندوں اور دیگر باغی گروہوں کے مابین روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
کیا شام میں دولتِ اسلامیہ سے جاری لڑائی کی وجہ سے شام میں ایک تیسرا تنازع اٹھ کھڑا ہو جائے گا جو ملک میں حکومت مخالف باغی تحریک کو اپنے بنیادی مقصد سے دور لے جائے گا۔
یہ جھڑپیں کم از کم چار صوبوں حما، راقیہ، حلب، ادلیب تک پھیلی ہوئیں ہیں اور ان سے نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔
کیا یہ صرف ایک اتفاق ہے کہ یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت ہو رہی ہیں جب دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو شام سے متصل صوبہ انبار میں عراقی حکومت کی جانب سے کارروائیوں کا سامنا ہے۔
کیا یہ دونوں ملکوں میں اسلامی شدت پسندوں کو ختم کرنے کی ایک بین الاقوامی حمایت یافتہ مہم ہے جو سرحد پر ایک اسلامی خلافت قائم کرنے کی جانب بڑھ رہے تھے؟ یا پھر کیا یہ رواں ماہ 22 جنوری کو جنیوا میں شام کے تنازعے پر امن مذاکرات دوم کے اجلاس سے پہلے شدت پسندوں کی صفائی کی مہم ہے؟
حزبِ اختلاف کے ایک اہل کار کے مطابق یہ سو فیصد شام کا اپنا فیصلہ ہے کہ ’دولتِ اسلامیہ پر حملہ کیا جائے۔‘

کیا اس سے امریکہ کے مفادات پورے ہوں گے؟ شاید۔ لیکن یہ اس لیے نہیں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر مغرب کی حمایت یافتہ حزب اختلاف چاہتی بھی تھی تو یہ کام نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس کا زمین پر ایک بڑی جنگجو طاقت جیسا کہ اسلامک فرنٹ سے تعلق نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دولتِ اسلامیہ کے تقریباً ایک سال پہلے شام میں آنے کے بعد سے اس کے باغی گروہوں اور شہریوں سے اختلاف شروع ہو گئے تھے۔
اس تنظیم پر جلد ہی الزام لگنا شروع ہو گئے کہ یہ حکومت کے خلاف جنگ کی بجائے اپنے مقصد کے لیے علاقے کو آزاد کرانا چاہتی ہے تاکہ وہاں پر اپنی طرز کے اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے۔
اس کے علاوہ اس پر غیر مصدقہ الزمات بھی لگے ہیں کہ اس کی پشت پناہی شامی سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس اور ایران کے پاسدارانِ انقلاب کر رہے ہیں۔
حزب مخالف کے ایک ذریعے کے مطابق یہ وہی کر رہے ہیں جو شامی حکومت کر رہی ہے، یعنی کارکنوں کو پکڑنا اور انھیں مارنا۔ اس کے علاوہ لوگوں پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ان کی آزادی کو کچلا جا رہا ہے۔
دولتِ اسلامیہ جب زیادہ طاقتور ہو گئی تو اس نے مخالف باغی گروہوں سے بتدریج لڑائی شروع کر دی اور ان کے اڈوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ترکی سے آنے والی سپلائی کے اہم راستوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔
دولتِ اسلامیہ سے جنگ کرنے والے ایک باغی گروپ شامی انقلابی محاذ نے الزام عائد کیا کہ اس نے چار سو باغی جنگجوؤں کو ہلاک کیا اور دیگر دو ہزار کو قیدی بنا لیا ہے۔
31 دسمبر 2013 کو صورتحال اس وقت زیادہ کشیدہ ہو گئی تھی جب دولتِ اسلامیہ نے ڈاکٹر حسین السلیمان کو تین ہفتے قبل اغوا کرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاش واپس کی۔
ڈاکٹر حسین احرار الشام نامی تنظیم کے طاقتور اور قابل قدر کمانڈر تھے۔
اس کے بعد متعدد جنگجو گروہوں نے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے جس میں اسلامک فرنٹ اور حال ہی میں دو گروہوں کے اتحاد سے وجود میں آنے والا ایک نیا اتحاد مجاہدین آرمی اور سیریئن ریولوشنری فرنٹ بھی شامل تھا۔
اس لڑائی میں ایسا لگتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے کئی علاقوں کا کنٹرول کھو دیا ہے اور اسے اپنے مضبوط گڑھ رقیہ میں بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ ملک کا واحد شمال مشرقی صوبہ ہے جو حکومتی کنٹرول سے نکل گیا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق اس تنظیم کے تیزی سے کئی علاقوں میں شکست کا سامنا کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کم علاقے تک محدود تھی اور اس کے ارکان کی تعداد اس کے ہائی پروفائل کے برعکس آٹھ ہزار سے نو ہزار کے قریب تھی۔ تاہم بعض افراد کو توقع ہے کہ اس تنظیم کا مکمل خاتمہ ہو جانا چاہیے۔
ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ یہ دولتِ اسلامیہ کو صرف ایک دھچکا ہے اور اسے مکمل شکست نہیں ہوئی۔
بعض کے خیال میں یہ تنظیم مشرق میں عراق کی سرحد سے متصل اپنے اہم سٹریٹیجک علاقے دیر الزور تک محدود ہو جائے گی۔
اور یہ بات اس پر منحصر ہے کہ صورتِ حال کیا رہتی ہے کیونکہ عراقی حکومت اس علاقے میں اپنی رٹ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ یہ تحفظات بھی پائے جاتے ہیں کہ کہیں دولتِ اسلامیہ دیگر باغی گروہوں پر کار خودکش حملوں میں اضافہ نہ کر دے۔
حزبِ اختلاف کے ایک ذریعے کے مطابق ’صورتِ حال بہت خوفناک ہوتی جا رہی ہے۔‘
اب تک اس بات کے کم ہی اشارے ملے ہیں کہ باغی اپنی جدوجہد سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، یا حکومتی فورسز کے لیے آسان ہدف بن گئے ہیں۔

مجموعی نتائج سے لگتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے پر کاٹے جانے کے بعد شاید یہ ختم ہو جائے اور شاید اپنی طاقت کی اجارہ داری اور سخت گیر اسلام کے بارے میں اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے۔
ہو سکتا ہے کہ اس کا آغاز صوبہ ہسکا میں ہو جہاں دولتِ اسلامیہ اور دیگر چار گروپوں نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ ایک مشترکہ شرعی انتظامیہ بنا رہے ہیں اور یہ اپنی تمام عسکری سرگرمیوں کے بارے میں ایک دوسرے سے رابطہ کریں گے۔
مغرب اور روس کی حمب مخالف کے گروہوں میں شدت پسند اسلامی عناصر ابھرنے سے متعلق تشویش کے حوالے سے دیکھا جائے تو آئی ایس آئی ایس کے خلاف کارروائیوں میں کوئی بڑے اختلافات نہیں ہو گا۔
النصرہ فرنٹ شام میں القاعدہ کا حقیقی ذیلی گروپ ہے اور یہ باغی گروہوں کے ساتھ مل کر شامی حکومت کے خلاف سرگرم ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ یہ بیرونی دولتِ اسلامیہ کے برعکس مقامی ماحول سے مطابقت رکھتے ہوئے کام کرتا ہے۔
النصرہ فرنٹ کو امریکہ اور اقوام متحدہ دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

شام کی باغی تحریک میں اس وقت اور بہت سارے سخت گیر گروپ شامل ہیں اور اس میں زیادہ تر اسلامک فرنٹ میں شامل ہیں، دولتِ اسلامیہ کے برعکس ان میں سے زیادہ تر گروہوں نے شام میں صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے تک اپنے مذہبی نظریات کو الگ رکھا ہوا ہے۔
زمین پر شامی حکومت سے برسرپیکار زیادہ تر گروہوں نے شام کے مسئلے پر جنیوا جانے اور شامی حکومت سے بات چیت کی حمایت کی ہے۔
اس لیے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ممکنہ زوال کا جنیوا امن مذاکرات پر بہت محدود اثر مرتب ہوگا، تاہم قومی اتحاد کے ہاتھ مضبوط کرنے کے حوالے سے تھوڑا فرق پڑے گا۔
شام کی حزب مخالف کے ایک اہل کار کے مطابق شامی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں زیادہ بات کر رہی ہے اور یہاں تک کہہ رہی ہے کہ جنیوا ٹو میں مذاکرات پر اس مسئلے پر ہونے چاہییں اور اس کے خلاف اصل جنگ حزبِ مخالف نے ہی لڑنی ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے کہ اس میں سرمایہ کاری کی جائے اور اس پر بات کی جائے۔







