شام: جنگ کے نئے محاذ کھل گئے

- مصنف, جیمز رینولڈز
- عہدہ, بی بی سی، شام ترکی سرحد
ملک شام کو نظرانداز کرتے ہوئے حسن شیخ عمر ترکی میں زیتون کے ایک باغ میں کھڑے ہیں اور جب وہ بولتے ہیں تو سورج کی تیز روشنی کی وجہ سے ان کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔
مسٹر عمر ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر ہیں اور وہ شمالی شام کے علاقے میں سرحد کے قریب درکش شہر میں ایک ہسپتال چلاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’ہمیں حیرت ہوئی تھی، کئی دن قبل جب شدت پسند تنظیم آئی ایس آئی ایس (دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام) اور دوسرے باغی گروہوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔‘
سوموار کو عراق اور مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے لیوانت کے جنگجوؤں نے شہر کے حریف باغی گروہ کے علاقے کے پاس کار بم دھماکہ کردیا۔
واضح رہے کہ ان علاقوں کے جنگجو مبینہ طور پر القاعدہ سے منسلک ہیں۔
مسٹر عمر نے کہا: ’کار بم دھماکے کے بعد ہم نے تقریباً 70 افراد کا علاج کیا۔ ہمارے سٹاف کو اس صورت حال سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہمارے پاس طبی سہولیات ناکافی ہیں۔‘
سرحد پار کے لوگ دو معرکوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک جنگ حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری ہے جبکہ دوسری باغی متحارب گروہوں کے درمیان شروع ہو گئي ہے۔
انھوں نے کہا: ’میرے خیال سے تمام جنگجوؤں کو حقیقی دشمن یعنی بشار الاسد کی حکومت سے لڑنا چاہیے۔ وہی ہے جس نے ہمارے لوگوں کا قتل کیا ہے اور ہمارے ملک کو تباہ کیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باغی گروہوں کے درمیان لڑائی نے ترکی میں بھی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ جنگ کی وجہ سے تریک حکومت نے شام میں اہم سرحدی راستہ خاصے عرصے تک بند کیے رکھا۔
ترکی کے ٹرک سامان سے لدے سرحد پار کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں اور یہ قطار اب میلوں لمبی ہو چکی ہے۔
شام کے باغی جنگجو اس علاقے کو جنگی تھکاوٹ کے بعد سستانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
فری سیریئن آرمی کے ایک کمانڈر ابو اعظم نے بتایا: ’دولتِ اسلامیہ نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے مجھے کار بم دھماکے کے ذریعے مارنے کی کوشش کی۔‘
ترکی کے شہر حطی میں ایک ہوٹل کے کمرے میں اعظم ایک ویڈیو چلاتے ہیں جس میں انھیں شام کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کئی درجن باغیوں سے مخاطب ہیں۔
اس فلم میں ان کے پشت پر کھڑے ہوئے اشخاص میں سے دو افراد مر چکے ہیں۔ تقریباً تین سال سے ابو اعظم کے جنگجو دشمن اصلی شامی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں لیکن اب انھیں دولتِ اسلامیہ کا بھی سامنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ان (دولتِ اسلامیہ) میں بہت سے اچھے لوگ ہیں۔ لیکن ان کے کمانڈروں سے غلطی ہو جاتی ہے۔‘
میں نے ان سے پوچھا کہ اسد سے لڑنا زیادہ مشکل ہے یا دولتِ اسلامیہ سے؟
انھوں نے بلا توقف جواب دیا: ’ہمارے لیے دولتِ اسلامیہ۔ کیونکہ یہ عسکری معاملہ نہیں ہے۔ جب ہم حکومت کے خلاف لڑتے ہیں تو ہم مرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ہم خوش ہوتے ہیں۔
’لیکن جب ہم دولتِ اسلامیہ سے لڑتے ہیں تو ہم اپنے ہی عقیدے کے لوگوں سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنی حفاظت تو کرنی ہی ہے۔‘
اس ہفتے جاری ایک آڈیو پیغام میں دولتِ اسلامیہ نے کہا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انھوں نے دوسرے باغی گروہوں کو خبردار کیا ہے کہ یا تو وہ اپنی چیک پوسٹیں خالی کردیں یا پھر مزید حملے کے لیے تیار رہیں۔
شام کی جنگ پھیلتی جا رہی ہے۔







