’حلب میں بیرل بم گرانے سے 517 افراد ہلاک ہوئے‘

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ 15 دسمبر سے اب تک ملک کے شمالی صوبے حلب میں طیارے کے ذریعے دھماکہ خیز مواد گرانے کے نتیجے میں 517 افراد ہلاک ہوئے۔
شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 151 بچے اور 46 خواتین شامل ہیں۔
خیال رہے کہ شام کا شمالی شہر حلب صدر بشار الاسد کی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کا مرکز رہا ہے۔
دوسری جانب ناروے کا ایک جہاز شام سے کیمیائی ہتھیار لے کر جا رہا ہے تاکہ انھیں تباہ کیا جا سکے
ان ہتھیاروں کو شامی کی بندرگاہ لاذقیہ سے اٹلی لے جایا جائے گا جس کے بعد انھیں امریکی جہاز کے ذریعے بین الاقوامی پانیوں میں لے جا کر تباہ کیا جائے گا۔
ادھر ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کرنے والے ادارے او پی سی ڈبلیو نے دمشق پر زور دیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی کوششوں کو تیز کرے۔
او پی سی ڈبلیو کے چیف احمد امزجو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماسکو میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد اقوامِ متحدہ، روس اور دیگر ممالک اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو کس طرح بحفاظت سامان بردار جہازوں کے لیے وہاں سے منتقل کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مشن شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے بعد منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔
خیال ہے کہ شام کے پاس تقریباً ایک ہزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے اور طے شدہ منصوبے کے تحت شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو آئندہ سال کے وسط تک تلف کیا جانا ہے۔
گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر متفق ہو گئی تھی کہ شامی ہتھیار تلف کر دیے جائیں۔
سلامتی کونسل میں یہ قرارداد امریکہ اور روس کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں پیش کی گئی تھی۔ اس معاہدے سے قبل روس نے شامی حکام کو کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ کیا تھا۔
شام میں جاری تنازعے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ رواں برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اس حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔
امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا موقف ہے کہ اس حملے کی ذمہ دار شامی حکومت تھی جبکہ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں سنہ 2011 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔







