’بشار الاسد جنگی جرائم کے مرتکب ہیں‘

صدر بشارالاسد
،تصویر کا کیپشنتنظیم نے پہلی بار براہ راست صدر اسد پر اس طرح کا الزام لگایا ہے

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کی تنظیم کی سربراہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ شام میں جنگی جرائم کی اجازت بشار الاسد سمیت انتہائی اعلیٰ سطح سے دی جاتی ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کی تنظیم نے براہ راست صدر اسد پر اس طرح کا الزام لگایا ہے۔

کمشنر نوی پلائی کا کہنا ہے کہ تنظیم کی انکوائری میں جنگی جرائم کروانے والے دیگر لوگوں کے نام بھی موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس لڑائی میں اب تک ایک لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

محترمہ پلائی کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی انکوائری کمیشن نے بڑے پیمانے پر سنگین جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ثبوت جمع کیے ہیں۔

ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان جرائم کی ذمہ داری حکومت میں اعلٰی سطح تک جاتی ہے جن میں سربراہ مملکت بھی شامل ہیں۔

اس انکوائری کمیشن نے اس سے پہلے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ اس کے پاس شام میں باغی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شہادتیں بھی موجود ہیں۔

محترمہ پلائی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انکوائری کمیشن نے ایسے لوگوں کی ایک فہرست تیار کی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے براہ راست ذمہ دار ہیں۔

جنیوا سے بی بی سی کے نام نگار ایموگن فوکس کے مطابق خیال ہے کہ اس فہرست میں شامی حکومت اور فوج کے سینئیر رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔