’اقوامِ متحدہ نے شام سے دستاویزات وصول کیے‘

اقوامِ متحدہ نے شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل ہونے کے لیے دستاویزات وصول کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
اس کنونشن کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار اور اس کا استعمال غیر قانونی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ شام سے موصول ہونے والے دستاویزات کا ترجمہ کیا جا رہا ہے۔اس کنونشن میں شامل ہونے والے ارکان ان کے پاس تمام کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا اعلان کرتے ہیں اور اسے تباہ کرتے ہیں۔
اس سے پہلے شام کے صدر بشارالاسد نے ایک روسی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئےکہا تھا کہ شام اقوامِ متحدہ کو دستاویزات بھیج رہا ہے اور کنونشن پر دستخط کے ایک ماہ بعد وہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ڈیٹا فراہم کر دے گا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے دے گا۔
صدر اسد نے ٹی وی چینل روسیا 24 سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کو امریکی حملے کے خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ روس کی تجویز پر عالمی کنٹرول میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’شام اپنے کیمیائی ہتھیار روس کی وجہ سے عالمی کنٹرول میں دے رہا ہے اور امریکی دھمکیاں اس فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوئی ہیں۔‘
روس نے پیر کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کی تجویز دی تھی جس کا شام نے خیرمقدم کیا تھا۔
اس تجویز کی وجہ سے امریکی صدر براک اوباما نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے شام کے خلاف فوجی کارروائی کو روک دیا تھا۔
اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں روس کے منصوبے پر بات چیت کے لیے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، چین، برطانیہ ، فرانس اور روس کے سفارت کاروں کے درمیان یہ ملاقات ایک گھنٹے سے بھی کم وقت تک جاری رہا۔
ایک سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مذاکرات علامتی نوعیت کے تھے اور زیادہ سنجیدہ سوالات پر بات چیت جنیوا میں ہوگی۔
برطانیہ ، فرانس اور امریکہ ایک ایسی قرار داد لانا چاہتے ہیں جس کی پابندی کرنا شام پر لازمی ہو جبکہ روس اس کا مخالف ہے۔
اس سے پہلے روس نے کہا تھا کہ اس نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اپنا منصوبہ امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔
روس نے پیر کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کی تجویز دی تھی جس کا شام نے خیرمقدم کیا تھا۔
اس تجویز کی وجہ سے امریکی صدر براک اوباما نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے شام کے خلاف فوجی کارروائی کو روک دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اب شام کے بارے میں کسی بھی قرار داد پر تناؤ کے ماحول میں مذاکرات ہونگے۔
برطانیہ فرانس اور امریکہ کے سفارت کاروں نے سکیورٹی کونسل میں ویٹو کی طاقت رکھنے والے پانچ ممالک کے اجلاس سے پہلے اپنی ایک علیحدہ ملاقات کی۔

فرانس اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد تیار کرنے پر پہلے ہی سے کام کر رہا ہے جو شام کی ناکامی کی صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔
ادھر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں کوئی بھی ایسی قرارداد قابلِ قبول نہیں ہوگی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری شام پر ڈالی جائے۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا باب سات دیگر طریقوں کی ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے جبکہ باب چھ صرف پرامن طریقوں سے مسائل کو حل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
شام کے وزیرِخارجہ ولیدالمعلم نے منگل کو کہا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیار ہیں اور انھوں نے روسی منصوبے کی واضح حمایت کی تھی۔
شام میں 2011 میں شروع ہونے والے کشیدگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







