شام: مزید کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات

شام نے 2014 کے وسط تک اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا
،تصویر کا کیپشنشام نے 2014 کے وسط تک اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ ان کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کار اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ دمشق میں 21 اگست کو ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے تین مزید حملے ہوئے ہیں یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے سات واقعات کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

شام نے اکیس اگست کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے تین واقعات کی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔

شام میں اقوامِ متحدہ کی موجودہ ٹیم پیر تک اپنا کام مکمل کر لے گی۔

ادھر شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں کے حوالے سے کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کاروں کی ٹیم منظوری کے بعد منگل کو شام پہنچے گی۔

<link type="page"><caption> شام پر قرارداد سلامتی کونسل میں زیرِبحث</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130927_un_syria_resolution_vote_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> شامی کیمیائی ہتھیار: امریکہ روس میں اتفاق</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130926_syria_us_draft_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

او پی سی ڈبلیو کی 41 ممالک سے ممبران پر مشتمل ایکزیکٹیو کونسل میں شامی ہتھیاروں کے بارے میں معاہدے کے مسودے پر جمعے کی شام ووٹنگ ہوگی۔

اس معاہدے کے متن کو پھر سلامتی کونسل کے اس قرار داد کے مسودے میں ضم کیا جائے گا جس پر امریکہ اور روس نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے حوالے سے اتفاق کیا ہے۔ اس قرار داد میں شام کو کیمیائی ہتھیار ترک کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس قراداد میں دمشق کے مضافات میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی جائے گی لیکن قرارداد میں اس حملے کا الزام کسی پر نہیں لگائے جائے گا۔

اگر شام کیمیائی ہتھیاروں کو ترک کرنے کے حوالے سے اس قرار داد کی پاسداری نہیں کرتا تو پھر اقوامِ متحدہ کے چارٹر سات کے تحت ایک اور قرار داد پاس کرایا جائےگا جس کے تحت شام کے خلاف طاقت کا استعمال ہو سکےگا۔

آکی سیل سٹریم کی سربراہی میں اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی ایک الگ ٹیم شام میں مزید کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرنے کے لیے 25 ستمبر کو دوبارہ پہنچی تھی جو ممکنہ طور پر اپنا کام پیر تک ختم کر دے گی۔

وہ ان الزامات کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ پر کام کر رہی ہے جو شاید اکتوبر کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ روس اور امریکہ نے ایک معاہدہ کروایا تھا جس کے تحت شام نے 2014 کے وسط تک اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے بیان کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ طور پر سات واقعات میں استعمال ہوا ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ان کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔

  • خان الاصل، 19 مارچ
  • شیخ مقصود، 13 اپریل
  • سراکیب، 29 اپریل
  • غوثیہ، 21 اگست
  • بحاریا، 22 اگست
  • جوبار، 24 اگست
  • اشرفیہ، 25 اگست

امریکہ نے غوثیہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شام پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ غوثیہ پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے بعد میں جاری ایک رپورٹ میں غوثیہ میں سارن گیس کے استعمال کی تصدیق کی گئی تھی لیکن کسی کو اس کے لیے ذمہ دار نہیں ٹہرایا گیا تھا۔

شام نے اس حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری باغیوں پر ڈالی تھی۔

اقوامِ متحدہ میں شام کے سفیر بشر جعفری نے ’شدت پسندوں‘ پر بحاریا، جوبار اور اشرفیہ میں شامی فوج کے خلاف کیمیائی گیس استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔