’شامی ہتھیاروں کی تفصیلات موصول ہوگئیں‘

شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی تفصیلات جمع کروانے کے لیے سنیچر تک کی مدت دی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنشام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی تفصیلات جمع کروانے کے لیے سنیچر تک کی مدت دی گئی تھی

کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے او پی سی ڈبلیو کا کہنا ہے اسے شامی حکومت کی طرف سے ان کی کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق تفصیلات موصول ہو گئی ہیں۔

او پی سی ڈبلیو کی طرف سے یہ اعلان روس اور امریکہ کے تیار کردہ منصوبے کے تحت، شامی حکومت کے لیے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی تفصیلات بھیجنے کی مہلت گزرنے سے پہلے کیا گیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شام کے پاس تقریباً ایک ہـزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے۔

طے شدہ منصوبے کے تحت شامی کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو آئندہ سال کے وسط تک تلف کرنا ہے۔

او پی سی ڈبلیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم اس کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ہمیں شامی حکومت کی طرف سے ان کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق تفصیلات موصول ہو گئیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ’تکنیکی سیکرٹیریٹ اب موصول ہونے والی تفصیلات کا جائزہ لی رہی ہے۔‘

واضح رہے کہ شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی تفصیلات جمع کروانے کے لیے سنیچر تک کی مدت دی گئی تھی۔

امریکہ نے دمشق کے نواحی علاقے میں اکیس اگست کو ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا موقف ہے کہ حملے کی ذمہ دار شامی حکومت تھی جبکہ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا۔

دریں اثناء شام میں حکومت مخالف ’فری سیریئن آرمی‘ اور القاعدہ سے منسلک ’عراق اور شام میں اسلامی ریاست‘ نامی تنظیم نے قصبے اعزاز میں ایک دوسرے کے خلاف لڑائی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شام میں حکومت مخالف ’فری سیریئن آرمی‘ اور القاعدہ سے منسلک ’عراق اور شام میں اسلامی ریاست‘ نامی تنظیم نے قصبے اعزاز میں آپس میں جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنشام میں حکومت مخالف ’فری سیریئن آرمی‘ اور القاعدہ سے منسلک ’عراق اور شام میں اسلامی ریاست‘ نامی تنظیم نے قصبے اعزاز میں آپس میں جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے

القاعدہ سے منسلک تنظیم نے بدھ کو فری سیریئن آرمی سے لڑائی کے بعد اعزاز کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔

دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی کے باعث یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں شام میں حکومت کے خلاف لڑائی میں شریک گروہوں کے درمیان بھی لڑائی شدت اختیار نہ کر جائے۔

دوسری جانب شام کے نائب وزیرِاعظم قادری جمیل کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں کوئی بھی فریق اتنا طاقتور نہیں ہے کہ دوسرے کو شکست دے سکے۔

او پی سی ڈبلیو کے ترجمان مائیکل لوحان نے کہا ہے کہ شام سے ملنے والی تفصیلات ’ابتدائی اعلان‘ ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک سفارتکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو تصدیق کی ہے کہ شام نے تفصیلات جمع کروا دی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فہرست کافی طویل ہے اور اس کا ترجمہ کیا جا رہا ہے۔‘

امریکہ اور روس کے مشترکہ منصوبہ کے مطابق نومبر تک کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو شام پہنچنا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ کیمیائی ہتھیار دو ہزار چودہ کے وسط تک تلف کیے جا سکیں گے۔

او پی سی ڈبلیو کےمرکزی اراکین آئندہ ہفتے میں ہتھیاروں کی تلفی کے نظام الوقت کے بارے میں ووٹنگ کریں گے۔

تاہم اس اجلاس کو اتوار کے روز ہونا تھا جو اب مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کی تاریخ میں تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں دی گئی ہے۔

او پی سی ڈبلیو کا کہنا ہے کہ شام ابھی تک ابتدائی تفصیلات جمع کروائی ہیں
،تصویر کا کیپشناو پی سی ڈبلیو کا کہنا ہے کہ شام ابھی تک ابتدائی تفصیلات جمع کروائی ہیں

او پی سی ڈبلیو کی جانب سے ہتھیاروں کی تلفی کے نظام الوقت کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس پر تائید کی کوشش کرے گی۔

تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کے درمیان قرارداد کی لفاظی پر اختلاف ہے۔ مغربی ممالک کا موقف ہے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ میں جو قراردار پیش کی جائے اس میں فوجی کارروائی کا راستہ بھی رکھا جائے تاہم روس اس دھمکی کی مخالفت کرتا ہے۔

جمع کو وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر شام نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو فوجی کارروائی کا راستہ زیرِ غور رہے گا۔

پیر کے روز اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ شام میں ممنوعہ ہتھیار سارن گیس استعمال کی گئی تھی تاہم سیکٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ ان کے معائنہ کار اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد کا تعین نہیں کر سکے۔