غوطہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے: اقوام متحدہ

ابتدائی رپورٹ میں مزید کہا تھا کہ غوطہ میں سیرن گیس کا استعمال زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے ذریعے کیا گیا
،تصویر کا کیپشنابتدائی رپورٹ میں مزید کہا تھا کہ غوطہ میں سیرن گیس کا استعمال زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے ذریعے کیا گیا

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کےکیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ اکیس اگست کو شام کے شہر غوطہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گیے تھے۔

معائنہ کاروں نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا یہ کیمیائی ہتھیار شامی حکومت کی جانب سے استعمال کیے گئے ہیں یا باغیوں کی جانب سے۔

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم کی سربراہی سویڈن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایک سیلسٹروم کر رہے تھے۔

ڈاکٹر سیلسٹروم نے 16 ستمبر کو اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا تھا کہ دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔

انہوں نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں مزید کہا تھا کہ غوطہ میں سیرن گیس کا استعمال زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے ذریعے کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے جمعرات کو اپنی حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ کیمیائی ہتھیار غوطہ کے علاوہ چار مزید علاقوں میں بھی استعمال کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جن مزید چار علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے ان میں جوبر، سراقب، اشرفیۃ صحنایا اور خان العسل شامل ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے شامی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے 21 اگست کو دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ میں باغیوں کے خلاف سیرن گیس استعمال کی تھی جس سے 1429 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے امریکہ کے اس الزام کی تردید کی تھی۔ اس حملے کے بعد امریکہ نے شامی سکیورٹی فورسز کے خلاف فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم شام کے اتحادی روس نے اقوام متحدہ میں اس قرارداد کی مخالفت کی۔ کئی ہفتوں کی سفارتی کوششوں کے بعد شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کے ہاتھوں تلف کرانے پر رضا مند ہو گیا تھا۔