شام: حکومت کی باغیوں کو قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش

شام میں گذشتہ سال سرکاری فورسز نے باغیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام میں گذشتہ سال سرکاری فورسز نے باغیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے آئندہ ہفتے جنیوا میں امن مذاکرات سے پہلے کہا ہے کہ وہ باغیوں کو قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کرنے پر تیار ہیں۔

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے ماسکو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کو شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔

شام کی جانب یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شامی حزب اختلاف کے اتحاد کا ترکی کے شہر استنبول میں اجلاس ہو رہا ہے جس میں جنیوا میں شام کے مسئلے پر امن مذاکرات میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا کہ وہ قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’میں نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کو شام میں دونوں جانب سے بنائے گئے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حق میں اپنی اصولی پوزیشن کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔‘

’ہم فہرستوں کے تبادلے اور اس کے تکمیل کے حوالے سے ضروری طریقۂ کار مرتب کرنے پر تیار ہیں۔‘

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے مزید کہا کہ انھوں نے حلب میں جنگ بندی کا منصوبہ روسی وزیر خارجہ کو پیش کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ دوسرے شہروں کے لیے مثال بنے۔جمعرات کو دونوں وزراء خارجہ کی ایرانی حکام سے ملاقات ہوئی تھی۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ملاقات کا’ کوئی پوشیدہ ایجنڈا‘ نہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سہ فریقی امن مسودہ تیار کر رہے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ چاہتے ہیں کہ ایران جنیوا امن مذاکرات میں شرکت کرے لیکن امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ ایران کو پہلے لازمی طور پر جنیوا مذاکرات کے پہلے دور کے مشترکہ اعلامیے پر رضامند ہو جس میں شام میں سیاسی طور پر اقتدار کی منتقلی ہو۔

شام میں باغی جنگجوؤں گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام میں باغی جنگجوؤں گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں

دریں اثنا لبنان کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے داغے جانے والے راکٹ کے نتیجے میں ارصل کے مقام پر ایک بچے سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف تحریک کے آغاز کے تین برس بعد بھی شامی اپوزیشن منقسم ہے اور حزب اختلاف کے اہم بلاک شامی قومی کونسل نے جنیوا مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی دے رکھی ہے جبکہ مجموعی طور پر اتحاد میں شامل 120 ارکان میں سے44 نے پہلے ہی جنیوا مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تاہم حزب اختلاف کے علاقائی اتحادی قطر اور سعودی عرب کے علاوہ امریکہ کا بھی ان پر شدید دباؤ ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت کریں۔

گذشتہ ہفتے شام میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر شام میں اپوزیشن کا مرکزی گروپ آئندہ ہفتے امن مذاکرات میں شرکت نہیں کرتا تو وہ اس کی حمایت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں گے۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی حکومت مخالف مہم کے دوران اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 65 لاکھ ملک کے اندر اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور بیس لاکھ نے دوسرے ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔