’این ایس اے کا ٹیلی فون نگرانی پروگرام غیر آئینی‘

امریکہ میں ایک عدالت نے کہا ہے کہ نگرانی کے امریکی پروگرام کے تحت نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیلی فون کا ڈیٹا حاصل کرنا غیر قانونی ہے۔
وفاقی ضلعی عدالت کے جج رچرڈ لیون نے کہا ہے کہ جاسوسی ادارے کا یہ عمل ’بے ربط مداخلت‘ تھی۔
<link type="page"><caption> ایڈورڈ سنوڈن کو معافی نہیں دی جا سکتی: امریکہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/11/131104_snowden_no_clemency_usa_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
ایجنسی کی جانب سے جمع کیا جانے والے میٹا ڈیٹا کی تفصیلات این ایس اے کے سابق اہل کار ایڈورڈ سنوڈن منظرِ عام پر لے آئے تھے۔ ان تفصیلات میں ٹیلی فون نمبرز، کالز کی تاریخ اور وقت شامل تھا۔
وائٹ ہاؤس اس تجویز کو مسترد کر چکا ہے جس کے مطابق اگر سنوڈن دستاویزات منکشف کرنا بند کر دیں تو انھیں استثنٰی دے دیا جائے۔
واشنگٹن ڈی سی کی ایک وفاقی عدالت کے جج رچرڈ لیون نے این ایس اے کے نگرانی کے پروگرام کو ’بلا امتیاز‘ قرار دیا۔
یہ فیصلہ قدامت پسند کارکن لیری کلیمین کی جانب سے دائر مقدمے میں سنایا گیا ہے۔ کلیمین ورائیزن موبائل کے صارف ہیں اور انھوں نے این ایس اے کی جانب سے میٹا ڈیٹا اکٹھا کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔
این ایس اے نے امریکہ کی بڑی فون کمپنیوں میں سے ایک ورائیزن سے اس کے صارفین کی تعداد، کالنگ کارڈ نمبروں، فونز کے سیریل نمبروں اور لاکھوں کالز سمیت میٹا ڈیٹا کو ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گلین گرین والڈ نامی صحافی جن کے ایڈورڈ سنوڈن کے ساتھ قریبی مراسم ہیں، اس فیصلے پر خوش ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق انھوں نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے: ’آج ایک خفیہ پروگرام جس کی کسی خفیہ عدالت نے اجازت دی رکھی تھی اور جب وہ دن کی روشنی میں منکشف ہوا تو اسے امریکیوں کی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ’یہ پہلا قدم ہے۔‘

این ایس اے کے سابق جنرل کونسل سٹیورٹ بیکر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ اپیل کے بعد تبدیل کیا جا سکتا ہے تاہم جن لیون کی تفصیلی رائے امریکی حکومت پر یقیناً ایک بوجھ ڈالے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس مسئلے پر قانونی کارروائی ہوگی اور حکومت کے لیے کچھ مہینوں یا شاید کچھ برسوں تک یہ مشکلات کا باعث بنے۔‘
پیر کو ایڈورڈ سنوڈن کو مزید راز منکشف نہ کرنے کی صورت میں استثنٰی دیے جانے کی تجویز کو وائٹ ہاؤس نے مسترد کیا تھا۔ انھیں امریکی حکومت نے حکومتی راز چوری کرنے اور قومی دفاع سے متعلق مواد کو بنا اجازت منتقل کرنے اور انٹیلی جنس سے متعلق معلومات جان بوجھ کر ظاہر کرنے کا الزام ہے۔
ہر الزام کی سزا کم سے کم دس سال قید ہے۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر این ایس اے نے پہلی بار سی بی ایس ٹیلی وژن کے عملے کو اپنے صدر دفتر میں آنے کی اجازت دی۔ اس اقدام کا مقصد ایجسنی کے اقدامات، مقاصد اور اس کی معلومات سے متعلق وضاحت پیش کرنا تھا۔







