یورپی اخبار امریکی جاسوسی کے الزامات پر برہم

جرمن چانسلر کے فون کی جاسوسی کے الزام کے بعد خود چانسلر پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ انھوں نے اس پر بروقت ردِعمل ظاہر نہیں کیا
،تصویر کا کیپشنجرمن چانسلر کے فون کی جاسوسی کے الزام کے بعد خود چانسلر پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ انھوں نے اس پر بروقت ردِعمل ظاہر نہیں کیا

یورپی اخباروں نے امریکہ کی جانب سے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے موبائل فون کی جاسوسی کے الزامات کو ’سنگین‘ اور ’رسوا کن‘ قرار دیا ہے۔

لیکن جرمن اخباروں نے چانسلر میرکل کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے کہ انھوں نے امریکی نگرانی کے پروگراموں کے بارے میں پہلے کیوں شکایت نہیں کی۔

اسی دوران امریکی اخباروں نے اس معاملے پر امریکہ اور یورپی ملکوں کے تعلقات کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

جرمنی

جرمنی کے ایک اخبار کی ویب سائٹ کی شہ سرخی تھی: ’سب سے بڑی توہین۔‘ اخبار نے لکھا ہے کہ میرکل کا موبائل ان کا ’کنٹرول سنٹر‘ ہے، اور ’ان کے فون پر حملہ ان کی سیاست کے مرکز پر حملے مترادف ہے۔‘

دوسری طرف اخبار نے جرمن چانسلر پر بھی تنقید کی ہے کہ این ایس اے کی طرف سے بہت بڑے پیمانے پر جرمنوں کی جاسوسی کرنے کے دعوے کے سامنے آنے کے فوراً بعد انھوں نے امریکہ سے شکایت کیوں نہیں کی۔

برلن کے اخبار زیتنگ نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ’حکومت کو اب جا کر صحیح معنوں میں پتہ چلا ہے کہ ہوا کیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے گرمیوں میں اس انکشاف کے سامنے آنے کے بعد حکمران اتحاد نے غصہ دلانے کی حد تک اس معاملے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

فرانس، اٹلی، سپین

فرانس کے روزنامے لے فگارو نے جرمن حکومت کے ردِعمل کو ’امریکہ کے لیے تنبیہ اور یورپی یونین کی جانب سے سخت جواب کے مطالبے‘ سے تعبیر کیا ہے۔

اٹلی کے اخبار لاستامپا نے توقع ظاہر کی ہے کہ اب یورپی یونین بھی ردِ عمل ظاہر کرے گی: ’میکسیکو اور فرانس کی جانب سے سخت احتجاج کے بعد اب جرمنی کی باری ہے، اور اس کے بعد ممکنہ طور پر یورپی یونین بھی آواز اٹھائے گی۔‘

سپین کے اخبار ال پائیس نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’انفرادی حقوق کی اس بڑی اور رسوا کن پامالی پر اوباما انتظامیہ خاموشی اور ابہام کی حکمتِ عملی جاری نہیں رکھ سکتی۔‘

امریکہ

نیویارک ٹائمز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس معاملے سے امریکہ کے اہم تعلقات کو گزند پہنچے گی۔ اخبار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے واقعی چانسلر میرکل کا فون ٹیپ کیا ہے تو اس سے امریکہ اور جرمنی کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

وال سٹریٹ جرنل نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ برلن میں اٹھنے والا ’شوروغل اس بات کی علامت ہے کہ این ایس اے کا سکینڈل واشنگٹن کے سمندرپار ساتھیوں سے تعلقات کے لیے مضر ثابت ہو گا۔‘