مبینہ نگرانی پر جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کا براک اوباما سے رابطہ

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے امریکی صدر براک اوباما سے ان اطلاعات کے بعد رابطہ کیا ہے جن کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ امریکہ نے ان کے موبائل فون کی خفیہ نگرانی کی ہو۔
جرمن چانسلر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’جرمن چانسلر اس طرح کے طرزِ عمل کو بالکل ناقابلِ قبول سمجھتی ہیں۔‘
میرکل نے امریکی حکام سے رابطہ کر کے اس بات کی وضاحت چاہی ہے کہ امریکی خفیہ نگرانی جرمنی میں کس حد تک رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر اوباما نے جرمن چانسلر کو بتایا کہ امریکہ ان کی مواصلات کی نگرانی نہیں کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ ’امریکہ نہ ہی جرمن چانسلر کی مواصلات کی نگرانی کرتا ہے اور نہ کرے گا‘۔
جے کارنی نے کہا کہ امریکہ جرمنی، فرانس اور دوسرے اتحادی ممالک کے امریکی خفیہ نگرانی کے حوالے سے تحفظات کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس کال سے ایک دن قبل امریکی انٹیلجنس کے سربراہ جیمز کلیپر نے ان اطلاعات کی نفی کی تھی کہ امریکی جاسوسوں نے تیس دن کے عرصے میں سات کروڑ فرانسیسی فون کالوں کو ریکارڈ کیا۔
انہوں نے فرانسیسی اخبار ’لا موند‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ اس میں ’گمراہ کُن معلومات دی گئی ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمن حکومت نے اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں کہ انہیں جرمن چانسلر کے فون کی جاسوسی کی معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں۔
جرمن جریدے ڈئر شپیگل جس نے ایڈروڈ سنوڈون کی جانب سے افشا کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر خبریں اور مضامین شائع کیے ہیں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معلومات اس کی تحقیقات کے نتیجے میں حاصل کی گئی ہیں۔
جرمن حکومت نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے اس معاملے کی ایک فوری اور جامع وضاحت پیش کرے‘۔
جرمنی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’قریبی دوستوں جیسا کہ وفاقی جمہوریہ جرمنی اور امریکہ ہیں جن کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں میں سربراہِ مملکت کی اس نوعیت کی کوئی بھی نگرانی نہیں ہونی چاہیے‘۔
اس بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ چانسلر میرکل نے امریکی صدر کو کہا کہ ’اس طرح کی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے‘۔







