’برازیل، میکسیکو کے صدور کی جاسوسی‘

برازیل اور میکسیکو نے نیشنل سیکورٹی ایجنسی یعنی این ایس اے کی طرف سے اس کے صدور کی جاسوسی کے دعووں پر امریکہ سے وضاحت طلب کی ہے۔
صحافی گلین گرين والڈ نے براذيلي ٹی وی گلوبو پر کہا، ’براذيل کی صدر جیلما روسیف اور میکسیکو کے اینریک پینا نیتو کے انٹرنیٹ ڈیٹا کو امریکی ایجنسی کی طرف سے درمیان میں روک کر دیکھا جاتا تھا۔‘
گرين والڈ کو اس سے متعلقہ خفیہ فائلوں امریکی خفیہ اطلاعات لیک کرنے کے ملزم ایڈورڈ سنوڈن سے ملی ہیں۔
برازیل کا کہنا ہے کہ ڈیٹا ہیک کرنا اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ میکسیکو نے بھی اس معاملے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
براذيلي سینیٹر اےڈارڈو سپلسي نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں کہا ’اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ امریکی ایجنسی یا امریکی حکومت کی طرف سے کرائے پر لیے گئے لوگ دیکھیں کہ کوئی برازيلي شہری کیا کر رہا ہے۔‘
امریکی سفیر کی طلبی

نیوز ایجنسی ایف پی کے مطابق برازیل اور میکسیکو کی حکومتوں نے اپنے اپنے ممالک میں امریکی سفیروں کو طلب کیا ہے۔ میکسیکو نے امریکی سفیر سے تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ پتہ لگ سکے کہ گزشتہ سال انتخابات سے پہلے صدر پینا نیتو کے ای میل کی مبینہ جاسوسی کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔
جولائی میں براذيلي اخبار ’او گلوبو‘ نے خبر دی تھی کہ امریکہ نے اس علاقے کی فون کالز اور ویب ٹریفک روک دیا تھا۔
برطانوی اخبار گارڈين کے کالم نگار گرين والڈ نے گلوبو ٹی وی کے نیوز پروگرام ’فےٹاسٹكو‘ پر اتوار کو کہا ’سنوڈن طرف سے افشا کی جانے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح امریکی ایجنٹ برازيل کے صدر کے معاونین کے درمیان ہونے والی بات چیت کی جاسوسی کرتے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برازیل کے وزیر انصاف جوس ایڈارڈو نے کہا ’اگر یہ صحیح ہوا تو نہ صرف ناقابل قبول ہوگا بلکہ اسے ملک کی خود مختاری پر حملہ بھی مانا جائے گا۔‘
ایک رپورٹ کے مطابق برازیل کی صدر روسیف جب بھی انٹرنیٹ پر آن لائن ہوتی تھیں، تب این ایس اے ایک پروگرام کے ذریعے ان پر نظر رکھتا تھا۔
برازيل کے صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بحث کے لئے سب سے پہلے وزراء کی میٹنگ بلائی جا رہی ہے۔
ساؤ پالو میں بی بی سی کے نامہ نگار جولیا كارنے ريو ڈی جنیئرو سے کہا کہ برازیل میں شک کیا جا رہا ہے کہ امریکی کاروباری مفادات کے سبب امریکہ کی جاسوسی کر رہا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حساس انکشاف ایک ایسے وقت ہوا ہے، جبکہ روسیف اکتوبر میں پہلے سرکاری دورے پر امریکہ جانے والی ہیں۔
ویسے برازيلي حکام نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کیا ان الزامات کے بعد روسیف واشنگٹن کا دورہ بھی منسوخ یا ملتوی کر سکتی ہیں۔
میکسیکن صدر کی جاسوسی

رپورٹ میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیتو کے گزشتہ سال جولائی میں منتخب ہونے سے پہلے این ایس اے ان کی مواصلات پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
صحافی گرين والڈ کا کہنا ہے کہ جون 2012 کی دستاویزات بتاتی ہیں کہ پینا نیتو کے ای میل پڑھے جاتے تھے۔ گرين والڈ کو یہ دستاویز سابق امریکی خفیہ تجزیہ کار ایڈورڈ سنوڈن نے فراہم کی، جسے برطانوی اور امریکی میڈیا میں امریکی خفیہ معلومات افشا کرنے کے بعد روس نے عارضی طور پر پناہ دے رکھی ہے۔
گرين والڈ پہلے ایسے صحافی تھے جنہوں نے چھ جون کو سنوڈن کی طرف سے افشا کی جانے والی دستاویزات کا انکشاف کیا تھا۔ تب سے وہ امریکہ اور برطانیہ کے حکام کی نگرانی پر خبروں کی سیریز لکھ چکے ہیں۔







