مارٹن لوتھر کنگ اور محمد علی زیرِ نگرانی رہے

امریکہ میں سامنے آنے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق جنگِ ویتنام کے خلاف امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ملک کی قومی سلامتی کی ایجنسی نے حقوقِ انسانی کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ اور باکسر محمد علی کی جاسوسی کی تھی۔
ان دستاویزات کے مطابق امریکی حکام نے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ صحافیوں اور دو سینیٹرز پر بھی نظر رکھی ہوئی تھی۔
دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایجنسی کے کچھ افسران کے خیال میں یہ پروگرام ’اگر غیرقانونی نہیں تو پھر بھی بےعزتی کے مترداف تھا۔‘
’مینار‘ نامی یہ پروگرام پہلی بار سنہ انیس سو ستّر کی دہائی میں سامنے آیا تھا لیکن اس کے تحت جن افراد کی نگرانی کی گئی ان کے نام اب تک خفیہ رکھےگئے تھے۔
یہ دستاویزات اس وقت افشا کی گئیں جب ایک حکومتی پینل نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے محققین کے حق میں فیصلہ دیا۔
یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے نیشنل سکیورٹی آرکائیو نے زیرِ نگرانی رہنے والے افراد کی فہرست کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا ہے۔
اس آپریشن کے دوران ایجنسی نے حقوقِ انسانی کے کارکنوں مارٹن لوتھر کنگ، وٹنی ینگ، باکسر محمد علی، نیویارک ٹائمز کے صحافی ٹام وکر اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار آرٹ بک والڈ کی نگرانی کی۔

اس کے علاوہ این ایس اے دو سینیٹرز ڈیموکریٹ پارٹی کے فرینک چرچ اور رپبلکن پارٹی کے ہاورڈ بیکر کی فون کالیں بھی سنیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن افراد کی نگرانی کی گئی ان میں سے کئی ویتنام کے مسئلے میں امریکی شمولیت کے ناقد تھے۔
1967 میں اس وقت کے امریکی صدر لِنڈن بی جانسن نے امریکی خفیہ اداروں سے کہا تھا کہ وہ معلوم کریں کہ آیا ویتنام جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہرے غیر ملکی حکومتوں کی ایما پر تو نہیں ہو رہے۔
اس کے بعد قومی سلامتی کی ایجنسی نے دیگر دو اداروں سے مل کر ’نگرانی کی فہرست‘ مرتب کی اور ان افراد کے فون ٹیپ کیے۔
یہ پروگرام 1969 میں صدر نکسن کی وائٹ ہاؤس آمد کے بعد بھی جاری رہا اور پھر جب واٹر گیٹ سکینڈل سامنے آیا تو 1973 میں اس وقت کے اٹارنی جنرل ایلیٹ رچرڈسن نے اسے بند کروا دیا۔
اب اس پروگرام کے بارے میں معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب این ایس اے ایک مرتبہ پھر نگرانی کے پروگراموں کی وجہ سے تنقید کی زد پر ہے۔







