غیرقانونی طور پر ای میل جمع کرنے کا اعتراف

امریکہ میں عام کیے جانے والی عدالتی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ ملک کی قومی سلامتی کی ایجنسی نے غیرقانونی طور پر سالانہ امریکیوں کی تقریباً 56 ہزار ذاتی ای میلز جمع کی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 2011 میں فارن انٹیلیجنس سرویلنس کورٹ کے ایک جج نے اس پروگرام کو غیرقانونی قرار دے دیا تھا۔
یہ ای میلز ایسے افراد نے بھیجی یا وصول کی تھیں جن کا دہشتگردوں یا مشتبہ افراد سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔
امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے اور سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے امریکیوں کی نگرانی کے پروگرام کی معلومات افشا کیے جانے کے بعد سے امریکی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس عدالت نے جس کے فیصلے عموماً خفیہ رکھے جاتے ہیں، کہا کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے 2008 سے 2011 کے دوران سالانہ 56000 کے قریب ای میلز جمع کر کے ممکنہ طور پر امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
تاہم انٹیلیجنس حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان ای میلز کی نگرانی غیر ارادی طور پر کی گئی اور یہ ٹیکنالوجی کا مسئلہ تھا۔
عدالتی دستاویز کے مطابق این ایس اے ایسے امریکیوں کی ای میلز علیحدہ کرنے میں ناکام تھی جن کا دہشتگردی سے کوئی واسطہ نہیں اور اسی لے ایجنسی دسیوں ہزاروں ایسی ای میلز جمع کرتی رہی جو ذاتی رابطوں پر مبنی تھیں۔
اپنی رولنگ میں جج جان بیٹس نے عوام کی نجی زندگی میں مداخلت کرنے پر نیشنل سکیورٹی ایجنسی پر تنقید کی اور اسے تین سال میں تیسرا ایسا واقعہ قرار دیا جس میں حکومت نے معلومات جمع کرنے کے پروگرام کے دائرۂ کار کے بارے میں غلط بیانی کی ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جج کا کہنا تھا کہ معلومات جمع کرنے کا یہ عمل امریکی آئین کی چوتھی ترمیم سے متصادم ہے جس میں غیرضروری تلاشی اور ضبطگی پر پابندی لگائی گئی ہے۔
یہ عدالتی دستاویز معلومات کے حصول کی آزادی کے قانون کے تحت دائر ایک درخواست کے نتیجے میں عام کی گئی ہیں۔
امریکی حکومت کے عہدیداروں کے مطابق یہ عدالتی فیصلہ عام کرنے کی وجہ یہ دکھانا بھی ہے کہ نگرانی کے پروگراموں میں پائی جانے والی خامیاں تلاش کر کے درست کر دی گئی ہیں۔
امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی کے انٹرنیٹ اور فون کالز کی نگرانی کے ’پرزم‘ نامی پروگرام کی معلومات جون میں ایجنسی کے سابق ملازم ایڈروڈ سنوڈن نے افشا کی تھیں۔
اس کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر براک اوباما نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ کے جاسوسی اور نگرانی کے پروگراموں کو مزید شفاف بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں ’ضروری اصلاحات‘ کی جائیں گی۔







