’نگرانی ختم ہوئی تو امریکہ ختم ہو جائےگا‘

کیتھ الیکزینڈر کا دعوی ہے کہ امریکہ کے نگرانی پروگرام کے ذریعہ ماضی میں کئی دہشت گردی کے واقعات سے تحفظ فراہم ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکیتھ الیکزینڈر کا دعوی ہے کہ امریکہ کے نگرانی پروگرام کے ذریعہ ماضی میں کئی دہشت گردی کے واقعات سے تحفظ فراہم ہوا ہے۔

امریکہ کے الیکٹرانک جاسوسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے نگرانی پروگرام نے دہشت گردی کی درجنوں سازشوں کو ناکام بنایا تھا۔

واضح رہے کہ سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار نے خفیہ نگرانی کے پروگرام ’پرزم‘ کو افشا کیا تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے پی کے مطابق امریکی سینیٹ کی ایک شنوائی کے دوران نیشنل سیکورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے ڈائریکٹر کیتھ الگزینڈر نے انٹرنیٹ، ٹیلی فون اور ڈیٹا کی نگرانی کرنے والے اس پروگرام کا دفاع کیا ہے۔

ان کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اس کے ذریعہ پرائیویسی اور سکیورٹی کے نازک لیکن اہم توازن کی نشاندہی ہوئی ہے۔

گزشتہ ہفتے اس پروگرام کے بارے میں اخباروں میں پہلی بار راز فاش کیا گیا تھا۔

دریں اثناء اس راز کو افشا کرنے والے شخص ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو امریکہ کے حوالے کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اس خبر کی اشاعت سے قبل ہی ایڈورڈ سنوڈن نے امریکی ریاست ہوائی میں اپنے گھر کو چھوڑ دیا تھا اور ہانگ کانگ چلے گئے۔

سی آئی کے سابق جاسوس اور این ایس میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے 29 سالہ سنوڈن نے اخبارات کو معلومات فراہم کرنے کی بات تسلیم کی ہے۔

امریکی حکام نے اس پروگرام کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جبکہ صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کانگریس اور عدالتیں اس پروگرام پر باریکی سے نظر رکھے ہوئی تھیں۔

سنوڈین نے کہا ہے کہ انھوں نے اس راز کا افشا ساری دنیا کے حق میں کیا ہے
،تصویر کا کیپشنسنوڈین نے کہا ہے کہ انھوں نے اس راز کا افشا ساری دنیا کے حق میں کیا ہے

انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی حکومت کے خفیہ طور پر معلومات جمع کرنے کے عمل کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا تھا۔

یورپی رہنماؤں نے امریکہ کے ذریعہ اس پروگرام کے تحت کی جانے والی نگرانی کی سطح پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بتایا جائے کہ اس سے یورپی یونین کے شہریوں کے حقوق تو پامال نہیں ہو رہے۔

دوسری جانب جان کیری نے کہا ہے کہ اس پروگرام کے تحت ’بعض انتہائی خوفناک واقعات کو روکا گیا ہے‘۔

انٹیلیجنس افسروں نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ اس پروگرام کے تحت امریکی ٹیلی فون پر لوگوں کی باتیں نہیں سنتے ہیں۔

بدھ کو امریکی سینیٹ میں انٹلیجنس کمیٹی کی ایک شنوائی میں جنرل الیگزینڈر نے کہا کہ ہے ’اس کے ذریعے دہشت گردی کے درجنوں واقعات سے بچا جا سکا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ انٹیلیجنس حکام اس بارے میں ’شفافیت لانے کی کوشش میں تھے لیکن انھوں نے کہا کہ بعض چیزیں صیغہ راز ہی میں رہیں گی کیونکہ ’اگر ہم ٹریک کرنے کے اپنے طریقوں کو بتا دیں گے تو دہشت گرد اسے جان لیں گے اور امریکہ ختم ہو جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ کہ وہ ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے لوگوں کی تنقید کو برداشت کر لیں گے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم کچھ چھپا رہے ہیں۔