’نگرانی کے عمل میں توازن برقرار رکھا گیا ہے‘

اوباما
،تصویر کا کیپشنصدر اوبامہ کے مطابق انہیں اس پروگرام پرزم کے بارے میں شروع میں جھجھک تھی

امریکہ کے صدر براک اوباما نے فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نگرانی کے حکومتی پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ نے سکیورٹی اور پرائیویسی کے درمیان ’صحیح توازن برقرار رکھا ہے۔‘

ادھر ورلڈ وائیڈ ویب کے خالق سر ٹم برنرز لی نے ’پرزم‘ نامی اس پروگرام پر کڑی تنقید کی ہے جبکہ فیس بک اور گوگل کے مالکان نے امریکی خفیہ ایجنسی کو معلومات کی فراہم کرنے کی تردید بھی کی ہے۔

صدر اوباما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس اور عدالتیں اس پروگرام پر نظر رکھتی ہیں اور امریکی انٹرنیٹ کمیونیکیشن اور امریکی شہری یا وہاں کے رہائشی اس کی زد میں نہیں ہیں۔

انھوں نے امریکی عوام کو اس بات کی یقین دہانی کروانے کی کوشش کی کہ ’کوئی بھی آپ کی فون پر ہونے والی گفتگو نہیں سن رہا ہے‘ اور یہ پروگرام فون سننے کے بارے میں نہیں بلکہ ماہرین فون نمبرز اور بات چیت کے دورانیے پر نظر رکھتے ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والی ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی کے اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز تک نکال لی جاتی ہیں تاکہ مخصوص لوگوں پر نظر رکھی جا سکے۔

بعدازاں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے تسلیم کیا تھا کہ حکومت انٹرنیٹ کمپنیوں سے صارفین کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے تاہم انہوں نے کہا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کی پالیسی کا ہدف صرف’غیر امریکی افراد‘ ہیں۔

اس پروگرام کے تحت بیرون ملک سے انٹیلیجنس معلومات حاصل کی جاتی ہیں
،تصویر کا کیپشناس پروگرام کے تحت بیرون ملک سے انٹیلیجنس معلومات حاصل کی جاتی ہیں

جمعہ کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں صدر اوباما نے کہا کہ این ایس اے کے پروگرام کی منظوری کانگریس نے دی ہے اور کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹیاں اور خفیہ جاسوسی کی عدالتیں اس پروگرام کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ جب انھوں نے صدر کی ذمہ داری اٹھائی تھی اس وقت دونوں پروگراموں کے بارے میں کافی شکوک پائے جاتے تھے لیکن ان کی جانچ پڑتال اور اس میں مزید حفاظتی انتظامات کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ ’یہ قابل قبول ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا: ’اس کے ذریعہ آپ کو صد فی صد سیکیورٹی تو نہیں مل سکتی لیکن سو فی صد پرائیویسی آپ کو حاصل ہے۔‘

ادھر ورلڈ وائیڈ ویب کے خالق سر ٹم برنرز لی نے پرزم پروگرام پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کے صارفین سے کہا کہ وہ انفرادی طور پر بھی اس معاملے پر آواز اٹھائیں اور احتجاج کریں۔

دوسری جانب فیس بک کے خالق مارک زکربرگ اور گوگل کے مالک لیری پیج نے امریکہ خفیہ ایجنسی کو صارفین کی معلومات کی فراہمی کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل ایپل اور یاہو بھی کسی بھی حکومتی ایجنسی کو اپنے سرورز تک براہ راست رسائی دینے کے الزام سے انکار کر چکی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں سراغ رسانی کی غرض سے انٹرنیٹ کی نو بڑی کمپنیوں کے سرورز سے صارفین کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں فیس بک، یو ٹیوب، سکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائکروسافٹ اور یاہو بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں جاسُوس کمپنی جی سی ایچ کیو پر بھی الزام ہے کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ کمپنی کو اس حوالے سے پارلیمنٹ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمپنی پر الزام ہے کہ اُس نے امریکہ کے جاسوسی کے پروگرام کے ذریعے بڑی انٹرنیٹ کمپنی سے صارفین کی معلومات اکٹھی کی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی حکومت کے خفیہ طور پر معلومات جمع کرنے کے عمل کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا ہے۔

امریکہ میں آئینی حقوق کے سینٹر نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی عدالت کی جانب سے لوگوں کی نگرانی کا سب سے وسیع حکم ہے۔

صدر بش کے دور میں منظور کیے جانے والے قانون پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت جاری اس عدالتی حکم پر جج راجر ونسن کے دستخط ہیں۔

اس عدالتی حکم کے تحت کمپنی پر لازم ہے کہ وہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو تمام الیکٹرانک ڈیٹا کی تفصیلات مہیا کرے ۔جیسے کسی بھی صارف نے کس وقت، کہاں اور کس نمبر پر فون کیا۔

کمپنی پر لازم ہے کہ وہ ٹیلیفون نمبر، کالنگ کارڈ نمبر، انٹرنیشنل سبسکرائبر شناختی نمبر ، انٹرنیشنل موبائل سٹیشن آلات نمبر، اور کال کی تاریخ اور وقت کے بارے میں مکمل معلومات مہیا کرے۔

البتہ اس عدالتی حکم کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اپنے صارف کا نام، پتہ اور اس رابطے کے دوران مواد کے تبادلے کی معلومات دینے کی پابند نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس عدالتی حکم کے بارے میں کسی کو کوئی معلومات فراہم نہ کی جائیں۔