’نگرانی کی معلومات سے پچاس حملے روکے گئے‘

امریکہ میں نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن حکومت کی جانب سے شہریوں کی نگرانی کے جن پروگراموں کو منظرِ عام پر لایا ہے، سنہ دو ہزار ایک سے اب تک اُن پروگراموں کی مدد سے پچاس حملے روکے جا چکے ہیں۔
جنرل کیتھ ایلکزینڈرنے ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کو بتایا کہ نگرانی کے یہ پروگرام انتہائی اہم ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ نیو یارک سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھی روکے گئے حملوں میں سے ایک ہے۔
دوسری جانب ایڈورڈ سنوڈن کے والد نے اپنے بیٹے سے استدعا کی ہے کہ وہ بغاوت کے مرتکب نہ ہوں۔
گذشتہ ماہ میں حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون نگرانی کے پروگراموں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سے کانگریس کے سامنے جنرل ایلکزینڈرکا یہ دوسرا بیان ہے۔
’گذشتہ چند سالوں میں اِن پروگراموں کی مدد سے امریکہ اور ان کے اتحادیوں پر تقریباً پچاس ممکنہ دہشتگردی کے حملوں کو روکا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ان میں سے دس حملے امریکی سرزمین پر ہونے تھے۔
ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سین جوئیس نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک کیس میں نیو یارک سٹاک ایکسچینج پر حملہ کو ابتدائی مراحل میں ہی روک دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے ذریعے کینزز سٹی کے خالد اوزانی کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
سنہ دو ہزار دس میں خالد اوزانی نے ایک وفاقی عدالت میں ایک دہشتگرد تنظیم کو مالی امداد فراہم کرنے کا اعتراف کیا۔
سین جوئیس نے کہا کہ نگرانی کے ذریعے اکھٹی کی گئی معلومات سنہ دو ہزار نو میں نیویارک کے زیرِ زمین ٹرین نظام پر حملہ رکوانے میں انتہائی اہم تھیں۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ ایڈورڈ سنوڈن کا مستقبل کیا ہوگا تو ان کا کہنا تھا ’انصاف‘۔
ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے بارے میں برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا تھا اور اخبار نے انہی کے کہنے پر ان کا نام ظاہر کیا۔
سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ سنوڈن نے کہا تھا کہ انہوں نے پرزم نامی اس پروگرام کے بارے میں معلومات عام کرنے کا فیصلہ ساری دنیا کے لوگوں کی آزادیوں کو بچانے کے لیے کیا۔
واضح رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین نے خبر شائع کی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز تک نکال لی جاتی ہیں تاکہ مخصوص لوگوں پر نظر رکھی جا سکے۔
اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ این ایس اے گوگل پر کی جانے والی کسی بھی سرچ کی براہِ راست نگرانی بھی کر سکتا ہے۔
گوگل اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے فوری طور پر اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے سرورز تک ’براہِ راست رسائی‘ کی سہولت فراہم نہیں کی ہے جس سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا انھوں نے این ایس اے یا کسی دوسری ایجنسی کو جو آزادانہ طور پر ٹریفک کی جانچ کرتی ہیں، درحقیقت بالواسطہ طور پر رسائی فراہم کی ہے۔
بعدازاں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے تسلیم کیا تھا کہ حکومت انٹرنیٹ کمپنیوں سے صارفین کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے تاہم انہوں نے کہا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کی پالیسی کا ہدف صرف’غیر امریکی افراد‘ ہیں۔







