ایران میں ہزاروں ای میل اکاؤنٹس پر حملے

گوگل کا کہنا ہے کہ اُس نے جی میل استعمال کرنے والے ہزاروں ایرانی صارفین کی ای میل پر حملے کا پتہ لگایا ہے جبکہ ہزاروں فیشنگ حملوں کو روکا بھی ہے۔
واضح رہے کہ 14 جون کو ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل ای میل پر کیے جانے والے ان حملوں کو سیاست سے متاثرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فیشنگ حملے میں ای میل استعمال کرنے والوں سے ان کے پاس ورڈ اور ای میل ایڈریس وغیرہ حاصل کر لیے جاتے ہیں۔
گوگل کمپنی نے اپنے ایک آن لائن بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایران میں فیشنگ کی ’حرکتوں میں غیر معمولی اضافے‘ کو محسوس کیا گیا۔
گوگل کا کہنا ہے کہ حملے کی نوعیت، وقت اور اہداف سے معلوم ہوا ہے کہ یہ حملے سیاسی نوعیت کے ہیں۔
سنہ 2009 کے انتخابات کے بعد اب جمعہ کو ایران میں دوبارہ صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔گزشتہ انتخابات میں صدر محمود احمدی نژاد نے دوسری بار کامیابی حاصل کی تھی۔
صدر کے دوسری بار منتخب ہونے پر ایران میں بھرپور مظاہرے ہوئے تھے اور صدر احمدی نژاد پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا تھا۔
گوگل میں سکیورٹی انجینیئرنگ کے نائب صدر ایرک گروسے نے کہا ہے کہ فیشنگ حملوں کی شروعات خود ایران ہی سے ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیشنگ کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کو جعلی ویب سائٹ پر لے جایا جاتا ہے اور ان سے ان کی آئی ڈی اور پاس ورڈ سمیت دیگر مطلوبہ چیزیں دریافت کی جاتی ہیں۔
انھوں نے کہا ’تقریباً تین ہفتوں سے ہم اس طرح کی حرکت دیکھ رہے ہیں کہ ای میل پر مبنی فیشنگ کی مہم چلائی جا رہی ہے اور ہزاروں ایرانی صارفین کے اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس حملے کا وقت اور ان کے ہدف یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے منسلک ہیں اور سیاست سے متاثر ہیں۔‘

گروسے کہتے ہیں کہ اس حملے کے شکار لوگوں کے پاس ایک ای میل روانہ کیا گیا ہے جس میں ایک ویب پیج کا لنک دیا گيا ہے اور ان سے اپنے اکاؤنٹ کو درست کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
جب وہ اس لنک پر کلک کرتے ہیں تو انہیں گوگل کا سائن ان پیج نظر آتا ہے جو ان کے یوزرنیم اور پاس ورڈ کو چرانے کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ کو ہونے والے انتخابات میں شامل چھ امیدواروں میں زیادہ تر قدامت پسند ہیں۔
حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ان کے 80 سے زیادہ حامیوں کو گزشتہ چھ مہینوں کے دوران کریک ڈاؤن میں ہلاک کر دیا گيا ہے۔ حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہے جبکہ دورجنوں کو عقوبت خانوں کی نذر کیا گیا ہے۔







