امریکہ کی ایرانی کرنسی کے خلاف پابندیاں

یہ پہلی دفع ہے کہ امریکہ نے براہِ راست ایرانی کرنسی کو پابندیوں کا ہدف بنایا
،تصویر کا کیپشنیہ پہلی دفع ہے کہ امریکہ نے براہِ راست ایرانی کرنسی کو پابندیوں کا ہدف بنایا

امریکہ نے ایران پر جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتے ہوئے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں جس میں ایرانی کرنسی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان پابندیوں کے تحت ان افراد کے لیے بھی سزا مقرر کی گئی ہے جو زیادہ تر کاروبار ایرانی ریال میں کرتے ہیں یا ایران سے باہر بڑی تعداد میں ریال بینک میں رکھتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیوں کا یہ نواں اقدام ہے۔

ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت ادارے ریال میں کام کرنا چھوڑ دیں گے جس سے ایرانی کرنسی مزید کمزور ہو جائے گی۔

یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ نے براہِ راست ایرانی کرنسی کو پابندیوں کا ہدف بنایا۔

امریکی اہلکار کے مطابق ’ان پابندیوں سے ایران کی کمزور کرنسی مزید کمزور اور غیر مستحکم ہو جائے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ریال ایران سے باہر قابلِ استعمال نہ رہے۔‘

ایرانی کرنسی گذشتہ کئی سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہت گر گئی ہے جس کی وجہ ایران کی بعض کلیدی صنعتوں کے خلاف پابندیاں ہیں۔

حالیہ پابندیوں کے تحت ایران کی گاڑیوں کی صنعت کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جو ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتا ہے۔

امریکہ نے گاڑیوں تیار کرنے والے صنعت میں استعمال ہونے والی آلات اور ہنر کو ایران منتقل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

فاونڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے مارک ڈیوبووٹز کا کہنا ہے ’ایران میں گاڑیوں کی صنعت پر پابندی ایک بہت بڑا قدم ہے کیونکہ یہ ملک میں توانائی کے شعبے کے بعد روزگار مہیا کرنے کا سب بڑا شعبہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان پابندیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران کے ہاتھ دو طریقوں سے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی نہ لگ جائے جیسا کہ یورینیم کی افزودگی کے لیے سنٹریفیوجز۔

دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ اگر ایک طرف امریکہ ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے لیکن دوسری طرف وہ اب بھی معاملات کے ایسے سفارتی حل کے لیے تیار ہے جو ایران کو بین الاقوامی کمیونٹی کے دھارے میں لائے بشرط یہ کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہو۔

لیکن انہوں نے خبردار کیا ’ایران کو سمجھنا چاہیے کہ اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اگر ایران اسی راستے پر چلتا ہے تو بے شک انہیں امریکہ اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اس کے مزید نتائج بھگتنے پڑیں گے۔‘