عوامی نگرانی پر پابندی کی ترمیم مسترد

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ملک کی قومی سلامتی ایجنسی (این ایس اے) کی جانب سے امریکیوں کے فون ریکارڈز جمع کرنے کے عمل پر پابندی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
بدھ کو ہونے والی ووٹنگ ریپبلکن جماعت کے رکن جسٹن اماش کی دفاعی اخراجات میں اس ترمیم پر ہوئی جس کے تحت این ایس اے کے اس پروگرام کی فنڈنگ بند کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
جسٹن اماش کا موقف تھا کہ ان کی ترمیم این ایس اے کی جانب سے اس صورت میں ذاتی معلومات کے حصول کی فنڈنگ روکنے کے بارے میں ہے اگر یہ معلومات کسی ایسے فرد کے بارے میں نہ ہوں جو پہلے ہی شاملِ تفتیش ہو۔
ووٹنگ میں اس ترمیم کے حق میں 205 اور مخالفت میں 217 ووٹ ڈالے گئے۔
ووٹنگ سے قبل امریکی صدر کے دفتر نے کانگریس پر زور دیا تھا کہ وہ اس پابندی کی تجویز مسترد کر دے۔
صدر براک اوباما کے ترجمان نے کہا تھا کہ این ایس اے پر یہ پابندی انسدادِ دہشتگردی کے ایک کلیدی آلے کو ’جلد بازی میں ناکارہ‘ بنا دے گا۔
اس کے علاوہ این ایس اے کے سربراہ جنرل کیتھ الیگزینڈر بھی منگل کو کانگریس کے اراکین کو اس اقدام کے خلاف ووٹ دینے کے لیے قائل کرتے رہے۔
قومی سلامتی ایجنسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ادارے کی جانب سے فون کالز کا ریکارڈ رکھنا ذاتیات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایجنسی کے ’پرزم‘ نامی اس پروگرام کو ادارے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے افشا کیا تھا جو اب مفرور ہیں اور ماسکو میں پناہ کی درخواست پر فیصلے کے منتظر ہیں۔
اس معاملے پر ملک کی دونوں سیاسی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان منقسم ہیں۔
ایوان کے ڈیموکریٹ ارکان جان کونیئرز اور جیرڈ پولس نے بھی اس ترمیم کی حمایت کی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ ’یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ معصوم امریکیوں کی معلومات بلاوجہ حکومتی ڈیٹابیس میں جمع نہ کی جاتی رہے۔‘







