روس اور چین کا تعاون مایوس کن ہے: امریکہ

امریکہ نے روس اور چین کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو مدد فراہم کرنے پر انہیں ناگزیر نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دریں اثناء ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن روس میں ہی ہیں یا پھر کسی اور ملک کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ دیگر ممالک کے حوالے سے ایکواڈور اور آئس لینڈ کے نام سامنے آئے ہیں۔
پیر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اگر روس اور چین نے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی مدد کی تو یہ’مایوس کن‘ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بھارت کے دورے کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے اقدام کے ’نتائج‘ ناگزیر ہو سکتے ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں جان کیری نے کہا کہ ’اگر انہیں غیر قانونی طور پر جہاز میں سوار ہونے کی اجازت دی گئی ہے تو یہ یقیناً بہت مایوس کُن ہے ‘۔
انھوں نے کہا کہ ’بغیر کسی سوال کے اس کا اثر ہمارے تعلقات پر پڑے گا‘۔
جان کیری نے ماسکو پر زور دیا ہے کہ ’قانون کے مطابق رہیں کیونکہ یہ ہر ایک کے مفاد میں ہے‘۔
’گزشتہ سات برسوں میں امریکہ نے سات قیدی روس کو منتقل کیے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ روس بھی امریکہ کے ساتھ جواباً ایسا ہی کرے۔ قانون کی حکمرانی بہت اہم ہے‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کے جاسوسی کے خفیہ پروگرام کی معلومات ذرائع ابلاغ کو بتانے پر ایڈرورڈ سنورڈن امریکی حکومت کو مطلوب ہیں۔
انھوں نے امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں کچھ عرصے تک ملازمت کی تھی۔
امریکی وزارت دفاع کی جانب سے ایڈورڈ سنوڈن پر جو فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ اس کے تحت الزامات میں جاسوسی اور حکومت املاک کی چوری شامل ہے۔ ان الزامات کے تحت انھیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ایڈورڈ نے برطانوی اخبار کو بتایا تھا کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس کے بعد وہ بیس مئی کو ہانگ کانگ چلے گئے تھے۔
گزشتہ روز اتوار کو سنوڈن ہانگ کانگ سے روس کے دارالحکومت ماسکو روانہ ہوئے تھے۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کیوبا گئے ہیں لیکن ایکواڈور کے وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ سنورڈن ابھی روس میں ہیں۔
ایکواڈور کے وزیر خارجہ جو ان دنوں ویتنام کے دورے پر ہیں انھوں نے کہا کہ ایکوڈور اور روس کے آپس میں’ قابلِ احترام سفارتی تعلقات‘ ہیں۔لیکن جب اُن سے پوچھا گیا کہ سنورڈن کہاں ہیں تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔
انھوں نے ایکواڈور میں ایڈورڈ کی جانب سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی تصدیق کی ہے اور سنورڈن کی جانب سے ایکواڈور کے صدر کے نام لکھا گیا خط پڑھ کرسنایا۔جس میں ایڈورڈ سنورڈن نے ’امریکہ اور اُس کے ایجنٹس کی جانب سے ہونے والے خطرات‘ کا ذکر کیا ہے۔
ایڈورڈ سنورڈن کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے ایکواڈور کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کی حکومت انسانی حقوق کو تمام دوسری چیزوں پر ترجیح دیتی ہے۔
امریکہ نے ایڈورڈ سنورڈن کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ روس اُسے امریکہ کے حوالے کر دے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سنورڈن نے اتوار کی رات ماسکو کے ایک ہوٹل میں گزاری ہے۔
دوسری جانب ویکی لیکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایڈورڈ محفوظ راستے سے ایکواڈور پناہ لینے جائیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے ہمراہ سفارتکار اور ویکی لیکس کے وکلاء کی ایک ٹیم بھی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی حکام نے اُن کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے بعد ہانگ کانگ سے اہلکار کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔
ہانگ کانگ میں حکومتی بیان میں کہا گیا کہ ایڈورڈ سنوڈن نے اپنی مرضی سے ’قانونی طریقے سے‘ ملک چھوڑا ہے۔
سنیچر کے روز امریکہ نے ہانگ کانگ سے ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے جواب میں ہانگ کانگ کے حکام کا موقف تھا کہ حوالگی کے لیے بھیجے گئے دستاویزات مقامی قوانین کے لحاظ سے نامکمل تھے۔ ہانگ کانگ کی حکومت نے اسی لیے امریکی حکام سے مزید دستاویزات مانگے تھے۔
حکومتی بیان میں مزید کہا گیا ’چونکہ ہانگ کانگ کی حکومت کے پاس اس وقت اُن کی گرفتاری کے لیے عبوری وارنٹ جاری کرنے کے لیے معلومات نا مکمل ہیں، اس لیے انھیں ہانگ کانگ چھوڑنے سے قانونی طور پر نہیں روکا جا سکتا‘۔
ہانگ کانگ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ اس بات پر قیاس آرائیاں ضرور ہوں گی کہ ہانگ کانگ کی حکومت نے حوالگی کے ایک طویل مقدمے کی بجائے قدرے آسان راستہ چن لیا ہے۔
ہانگ کانگ کی حکومت نے واشنگٹن سے ان الزامات کی وضاحت بھی طلب کی ہے جو سنوڈن پر امریکہ کی جانب سے ہانگ کانگ کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کے حوالے سے لگائے تھے۔







