برسلز: یورپی یونین کے اجلاس میں امریکی نگرانی کا موضوع حاوی

برسلز میں یورپی یونین کا اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے جاسوسی کرنے کے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ایک روز قبل ہی جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے امریکہ کے صدر براک اوباما کو فون کر کے ان اطلاعات کے بارے میں بات کی تھی جن کے مطابق امریکہ میں ان کے فون کی نگرانی کی گئی۔
فرانس کے صدر فرانسوا اولاند اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس معاملے کو اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔
واضح رہے کہ ایک فرانسیسی اخبار نے یہ خبر شائع کی تھی کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے فرانس میں کروڑوں فون کالوں کی نگرانی کی ہے۔
یورپی یونین کے اس اجلاس میں رہنما یورپ کی معیشت کی بحالی اور تارکینِ وطن کے معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔
یورپ میں بی بی سی کے ایڈیٹر گیون ہیوٹ کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ یورپی رہنما اس اجلاس میں واشنگٹن سے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی یورپ میں سرگرمیوں کے حوالے سے وضاحت طلب کریں گے۔
امریکی نیشنل سکیورٹی کے راز افشا کرنے والے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے جاسوسی سے متعلق مہیا کردہ مواد کے تحت اب امریکہ کے اتحادی اس سے سوال کر رہے ہیں۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے امریکی حکام سے وضاحت طلب کی ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ امریکہ میں ان کی کس حد تک نگرانی کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جرمن رہنما ’ایسے اقدامات کو ناقابلِ قبول سمجھتی ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے انہیں یقین دلایا ہے کہ امریکہ ان کی فون کالز کی نگرانی نہیں کر رہا اور نہ مستقبل میں اس کا ایسا ارادہ ہے۔
یورپی یونین کے اجلاس میں دیگر اہم مسائل میں ڈیجیٹل معیشت اور بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کو پیش آنے والے حالیہ حادثے پر بات کی جائے گی۔
اس کے علاوہ ٹیلی کام اصلاحات، ڈیٹا کے تحفظ اور کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی کی حد مقرر کرنے کے موضوعات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔
امریکہ کی یقین دہانی

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ ’امریکہ جرمن چانسلر کی مواصلات کی نگرانی کرتا ہے اور نہ کرے گا۔‘
جے کارنی نے کہا کہ امریکہ جرمنی، فرانس اور دوسرے اتحادی ممالک کے امریکی خفیہ نگرانی کے حوالے سے تحفظات کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس سے ایک دن قبل ہی امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ جیمز کلیپر نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ این ایس اے نے 30 دن کے عرصے میں سات کروڑ فرانسیسی فون کالیں ریکارڈ کیں۔
ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر خبریں اور مضامین شائع کرنے والے جرمن جریدے دا شپیگل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معلومات اس کی تحقیقات کے نتیجے میں حاصل کی گئی ہیں۔
جرمنی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جرمنی اور امریکہ جیسے قریبی دوستوں میں سربراہِ مملکت کی اس نوعیت کی نگرانی نہیں ہونی چاہیے۔‘







