امریکی ’جاسوسی‘ پر یورپ غصے میں، سپین میں امریکی سفیر سے جواب طلبی

سپین کے وزیراعظم ماریانو رخوئے نے یہ فیصلہ ان اطلاعات کے بعد کیا جن کے مطابق امریکہ نے سپین میں جاسوسی کی
،تصویر کا کیپشنسپین کے وزیراعظم ماریانو رخوئے نے یہ فیصلہ ان اطلاعات کے بعد کیا جن کے مطابق امریکہ نے سپین میں جاسوسی کی

سپین کے وزیر اعظم ماریانو رخوئے نے کہا ہے کہ وہ سپین میں امریکی سفیر کو طلب کر کے ان سے مبینہ جاسوسی کے الزامات کے بارے میں جواب طلب کریں گے۔

سپین جو امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حلیف ملک رہا ہے نے یہ ردِ عمل ان اطلاعات کے بعد دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے سپین میں جاسوسی کی۔

سپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہمارے پاس سپین میں جاسوسی کے حوالے سے کوئی ثبوت تو نہیں ہے مگر ہم امریکی سفیر کو ھلب کر کے معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سپین میں میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے نے کئی حکومتی اراکین اور سیاستدانوں کی جاسوسی کی جن میں سابق سوشلسٹ وزیراعظم روڈریگز زپاٹیرو بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل جرمنی نے اس ہفتے کے شروع میں ان اطلاعات کے بعد امریکی سفیر کو طلب کیا کہ امریکہ نے جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کے موبائل فون کی جاسوسی کی۔ اس قبل جمعے کے روز ہی یورپی یونین میں شامل ممالک کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ جاسوسی کے معاملے پر امریکی بداعتمادی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس دوران برطانوی اخبار گارڈین نے خبر دی ہے کہ این ایس اے نے ایک امریکی اہلکار کے کہنے پر 35 عالمی رہنماؤں کی فون کالز کی نگرانی کی۔ یہ خبر بھی امریکی نگرانی کا راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے حوالے سے دی گئی ہے۔

برسلز میں منعقدہ اجلاس کے بعد ایک متفقہ بیان میں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بداعتمادی پیدا ہونے سے خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے عمل میں تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جمعہ کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ امریکہ سے اپنے تعلقات کی قدر کرتا ہے تاہم انٹیلی جنس سے متعلق حالیہ معاملات نے یورپی عوام میں گہرے خدشات پیدا کیے ہیں۔

بیان کے مطابق رہنماؤں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خفیہ معلومات جمع کرنا ایک کلیدی معاملہ ہے اور بداعتمادی اس سلسلے میں ضروری تعاون کو متاثر کر سکتی ہے۔

اس سے قبل جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ ان کا ملک اور فرانس چاہتے ہیں کہ امریکہ اس سال کے آخر تک نگرانی کے متنازع پروگرام پر ان سے بات چیت کرے تاکہ یہ معاملہ حل ہو سکے۔

جاسوسی کے تنازعے پر امریکہ اور یورپی ممالک میں بات چیت کا مطالبہ ان اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے جن کے مطابق امریکہ نے جرمن چانسلر کے ذاتی فون اور فرانس میں ہزاروں فون کالز کی نگرانی کی ہے۔

برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں انگیلا مرکل نے کہا ’ایک مرتبہ بداعتمادی کا بیج بو دیا جائے تو انٹیلی جنس تعاون بہت مشکل ہو جاتا ہے‘۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ انٹیلی جنس کے بارے میں لگنے والے ہر الزام پر کھلے عام رائے نہیں دے گا تاہم وہ اپنی انٹیلی جنس معلومات کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کے معاملے میں ضابطہ بنائے۔

انہوں نے کہا ’فرانس اور جرمنی امریکہ کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے تاکہ اس سال کے آخر تک تعاون اور وضاحت کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل بن سکے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر دیگر یورپی ممالک اس میں شامل ہونا چاہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔‘

فرانسوا اولاند نے مزید کہا ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دوسرے معاملات کے ساتھ ساتھ ہم نہ صرف یہ وضاحت کریں کہ ماضی میں کیا ہوا بلکہ اس مستقبل کے لیے بھی اصولوں پر اتفاق کریں۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے فون کی نگرانی کے الزامات کے حوالے سے کہا کہ ’یہ قطعی غلط ہے کہ دوست ایک دوسرے کی جاسوسی کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بدھ کو امریکی صدر سے بات چیت میں انہیں پیغام دیا ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کے اجلاس کے پہلے دن کے بعد جرمن چانسلر نے کہا کہ فرانس اور جرمنی اس معاملے کے حل کے لیے امریکہ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

اس تنازعے سے یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ آیا ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا کہ نہیں۔ سابق امریکی وزیرِ خارجہ میڈیلن اولبرائٹ نے کہا ہے کہ ’نگرانی کے الزامات لوگوں کے لیے حیران کن نہیں ہیں کیونکہ ممالک ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ جب وہ حکومت میں تھیں تو فرانس نے ان کی جاسوسی کی تھی۔

35 عالمی رہنماؤں کی جاسوسی

برطانوی اخبارگارڈین کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے افشا کی جانے والی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ امریکی حکام نے 35 عالمی رہنماؤں کے فونوں کی نگرانی کی۔

ان خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکہ کی قومی سلامتی کے ادارے (این ایس اے) نے امریکی حکومت کے ایک دوسرے محکمے سے دو سو ٹیلی فون نمبروں کی فہرست ملنے کے بعد جاسوسی شروع کر دی تھی۔

اکتوبر 2006 کی تاریخ والے ان دستاویزات کے مطابق این ایس اے نے امریکہ کے وزارت داخلہ، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون میں تعینات افسران سے عالمی رہنماؤں کے نمبر حاصل کیے اور صرف ایک ہی افسر نے دو سو سے زیادہ نمبر دیے جن میں سے 35 عالمی رہنماؤں کے تھے حالانکہ ان میں سے کسی رہنما کا نام عام نہیں کیا گیا ہے۔

این ایس اے کے سابق ملازم سنوڈن نے جون میں امریکہ کے خفیہ نگرانی کے پروگرام پرزم کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد این ایس اے نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے لاکھوں امریکیوں کے ای میل اور فون ڈیٹا حاصل کیا تھا۔