جینیوا معاہدہ اور اسرائیل

نتن یاہو کی مرضی کے خلاف امریکہ نے ایران سے معاہدہ کر لیا
،تصویر کا کیپشننتن یاہو کی مرضی کے خلاف امریکہ نے ایران سے معاہدہ کر لیا

پہلے پہل یہ معاہدہ بد تھا، پھر بدتر ہوا اور پھر بدترین ہوگیا۔ بات یہیں نھیں رکی اس کو آخر کار ایک ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا گیا جس نے دنیا کو مزید غیر محفوظ یا پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک جگہ بنا دیا ہے۔

ایران اور چھ مغربی طاقتوں کے درمیان گذشتہ ہفتے جینیوا میں ہونے والے معاہدے پر اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا غصہ اور تنقید معاہدے پر دستخط سے قبل اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے۔

غلام گردشوں میں ہونے والی سفارت کاری غیر اہم جزیات تھی۔ نتن یاہو کے لیے تشویش اس کی تفصیل میں تھی۔ ان کی وزارتِ اعظمٰی کے لیے یہ اہم موڑ تھا۔

نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کا واحد مقصد یہودی ریاست کو ایران کی طرف سے اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے خطرے سے بچانا ہے۔

انھوں نے اس خطرے کو سنہ انیس سو تیس کے نازی ازم کی یاد دلا کر سنگین بنانے کی کوشش کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لا کر اس کا سر ابتدا میں ہی نہ کچلا گیا تو اس کے بھی وہی نتائج برآمد ہوں گے۔

اور کسی حد تک ان کی وجہ سے عالمی طاقتوں نے اس کا نوٹس لیا اور ایران کا جوہری خطرہ عالمی سطح پر اولین ترجیح بن گئی۔ ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کا حملہ، امریکہ کی حمایت یا اس کے بغیر کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

لیکن اب دنیا اس مسئلہ کا سفارتی حل نکلانے کے حق میں ہے اور جنگ سے بچنے کے لیے ایران سے مفاہمت کرنے پر تیار ہے۔ یہ صورت حال اسرائیل کے وزیر اعظم کے لیے کیا معنی رکھتی ہے جن کی ایران سے مفاہمت کے خلاف پکار پر کسی نے کان نھیں دھرا۔

یروشلم پوسٹ کے سیاسی مدیر گل ہوفمین کا کہنا تھا کہ نتن یاہو کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ شخص تھا جس کو ابلاغ کی صلاحیتوں کی وجہ سے منتخب کیا گیا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اسرائیل کو درپیش اہم مسائل پر دنیا کو قائل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس معاملے پر وہ ناکام ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں’ کنگ بی بی‘ کہا جاتا ہے لیکن وہ اب’ کنگ بی بی‘ کی طرح بھی نظر نھیں آتے۔

لیکن عبرانی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ابراہم دسکن کا کہنا ہے کہ نتن یاہو بنیادی طور پر کمزرو نہیں ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کے موقف کو اسرائیل میں وسیع حمایت حاصل ہے۔

اب امریکہ اور یورپ کی کوشش ہے کہ اسرائیل کو کسی طرح اطمینان دلایا جائے۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیئم ہیگ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کیا اور انھیں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی نصیحت کی۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے جینیوا مذاکرات میں مندوب سائمن گاس کو اسرائیل کے خدشات دور کرنے کے لیے یروشلم بھیجا گیا۔ فرانس نے بھی اپنے ایک سینیئر سفارت کار کو اسرائیل روانہ کیا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اگلے ہفتے بیت المقدس کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ ایران کے جوہری معاہدے اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات پر بھی بات کریں گے۔

امور خارجہ کی یورپی کونسل کے ڈینیل لیوی کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس اب تین راستے ہیں۔ یا تو وہ اس معاہدے کو قبول کر لیں، یا جارحانہ انداز اپنائیں یا اس کو بے اثر کرنے کی کوشش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ: ’ایک راستہ تو یہ ہے کہ وہ کہیں کہ ایران نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور اِس کو اپنی فتح کے طور پر پیش کریں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائیں یا پھر یہ کوشش کریں کہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے میں رخنہ ڈالا جائے اور میرے خیال میں وہ ایسا ہی کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

جینیوا معاہدے کو اس صدی کا معاہدہ قرار دینے کے بعد نتن یاہو کے لیے اب یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ اس پر اپنی جیت کا دعوی کر سکیں۔ اسرائیل کے اس اصرار سے قطع نظر کہ طاقت کا راستہ اب بھی کھلا ہے شاید اس صورت حال میں جب ساری دنیا سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں ہے طاقت کا یکہ طرفہ استعمال ممکن نہ رہے۔

اب نتن یاہو کے لیے صرف یہ راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اس معاہدے پر تنقید جاری رکھتے ہوئے یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح یہ معاہدہ ختم ہو جائے یا اس سلسلے میں کوئی خلل پڑ جائے۔

پس پردہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف خفیہ کارروائیاں بھی جاری رکھ سکتا ہے۔

اسرائیل میں عوام رائے عامہ وزیر اعظم کے حق میں ہے۔ جینیوا معاہدے کے بعد عوامی رائے عامہ کے ایک جائزے میں اٹھاون سے ساٹھ فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے نے اسرائیل کو غیر محفوظ کر دیا ہے اور پچپن سے اٹھاون فیصد نیتن یاہو کے موقف کی مکمل طور پر حمایت کرتے نظر آئے۔

اسرائیل میں عوامی سطح پر اوباما کو اسرائیل کا دوست تصور نہیں کیا جاتا
،تصویر کا کیپشناسرائیل میں عوامی سطح پر اوباما کو اسرائیل کا دوست تصور نہیں کیا جاتا

وزیر اعظم نتن یاہو پر ایک کتاب کے مصنف ٹیٹ رئس کا کہنا ہے کہ :’اسرائیلی عوام اندورنی مسائل پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر تیار رہتے ہیں لیکن جب ملک کی سلامیت کو کوئی بیرونی خطرہ لاحق ہو تو وہ ایک ہو جاتے ہیں۔

’نتن یاہو نے اس مسئلے پر جو حکمت عملی اپنائے رکھی اس کو عوامی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہے۔‘

اسرائیل سیاست دانوں کی طرف سے اس مسئلہ پر کوئی متبادل تجویز پیش نھیں کی گئی۔

اسرائیل کے ٹی وی چینل ٹو کے سیاسی نامہ نگار امت سیگل کا کہنا ہے کہ ایران کے مسئلہ پر نتن یاہو اہم کردار نہیں ہیں بلکہ وہ واحد کردار ہیں۔

اسرائیل کی لیبر پارٹی کے نو منتخب سربراہ آئزک ہرزوگ نے کہا کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے معاہدے پر نتن یاہو نے غیرضروری طور پر خوف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن کس کا یہ خیال نھیں کہ حزب اختلاف کی طرف سے نتن یاہو کو خاطر خواہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لیوی کے مطابق حزب اختلاف کی طرف سے کوئی مخالفت نہ ہونے کی وجہ سے نتن یاہو کے لیے میدان کھلا ہے اور ان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیل کے اندر نتن یاہو کو حاصل حمایت کے باوجود یہ اسرائیل کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے کوئی بڑی تشویش کی بات نہیں ہے۔

حالیہ برسوں میں اسرائیل میں ملکی سلامیت کی بجائے اقتصادی صورت حال ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن کر ابھری ہے ۔

بی بی کے پاس اس مسئلہ پر اسرائیلی عوام اور وٹروں کو دینے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن ملکی سلامیت کو لاحق خطرات کا حوا کھڑا رکھنے سے انھیں ملکی سیاست میں برتری حاصل رہے گی۔

لیوی کے مطابق اسرائیل کی طرف سے اپنے وجود کو لاحق خطرے کے رونا روتے رہنے سے اس کے قریب ترین اتحادی میں بددلی پیدا ہو رہی ہے اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس تاثر کا زائل کرنے کی کوشش کر رہے کہ وہ نیتن یاہو کے سیاسی پارٹنر ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ نتن یاہو کی طرف سے امریکی سیاست میں مستقل دخل اندازی نے امریکہ میں ان کی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور امریکی انتظامیہ میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ اب اس کا کچھ کرنا پڑے گا اور اس سے بچ کر حکمت عملی اپنانی پڑے گی۔

ہومین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مخالفت ہر تنہا رہ جانے سے اسرائیل کے اندر نتن یاہو کے لیے ہمدردی پیدا ہو گی۔ اسرائیل کے عوام اوباما کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اسرائیل کے اندر اوباما کو اسرائیل کے مخالف کی طور پر دیکھا جاتا ہے اور اگر نتن یاہو ملکی سلامتی جیسے اہم مسئلہ پر اوباما کی پالیسی کے مخالفت کرتے نظر آئیں گے تو یقنی طور پر ان کی عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا۔

ایران کے مسئلہ پر اسرائیل کو کسی حرکت سے بعض رکھنے کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ کیری کے لیے اسرائیل کے دورے پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کو زندہ رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہوگا۔

جینیوا میں ایک معاہدہ رکوانے میں ناکامی کے بعد نتن یاہو اب فلسطین کے مسئلہ پر مفاہمت کے لیے آسانی سے تیار نہ ہوں گے۔

واشنگٹن میں قائم بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ فلسطینی ایران جوہری معاہدے کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی شدید مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے انھوں نے ایران سے معاہدہ تو کر لیا ہے لیکن اب ان کے لیے فلسطین سے امن مذاکرات پر اسرائیل کو تیار کرنا آسان نہ ہو گا۔

دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت ممکن نھیں ہے۔

لیوی نے کہا کہ نتن یاہو کی نظر ہمیشہ خطرات پر رہتی ہے اور انھیں مواقعے نظر نہیں آتے اور جینیوا معاہدے نے ان کی سیاست کی بنیاد ہلا دی ہے۔ وہ اب یہاں سے کہاں جائیں گے ایک بن گوریان جیسے وزیر اعظم بن کر ابھریں گے جن کی وزارتِ اعظمی کا دور بارہ سال تک جاری رہا تھا اور کیا اس طویل اقتدار سے کوئی تبدیلی بھی آئے گی۔

رئیس کے مطابق نتن یاہو کا ان کے تاریخی کردار پر یقین بڑھ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نتن یاہو اپنے آپ کو ایک عظیم مفکر کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کو یہ کامل یقین ہے کہ امریکہ بھی اسرائیل کی سلامتی کا ضامن نھیں ہو سکتا۔ عالمی سطح پر تنہائی سے وہ اندرنی طور پر کمزور نہیں ہوئے بلکہ وہ ایک مضبوط قائد کے طور پر ابھریں گے۔