ایران پر عائد کچھ پابندیاں دسمبر میں ختم ہو سکتی ہیں: لوراں فبیوس

فرانس کے وزیرِ خارجہ لوراں فبیوس نے کہا ہے کہ جنیوا میں طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے بعد یورپی یونین آئندہ ماہ ایران پر عائد کچھ پابندیاں اٹھا سکتی ہے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پابندیاں اٹھانے کا عمل ’محدود، مخصوص اور ان کے دوبارہ لاگو ہونے کے امکانات‘ کے ساتھ ہوگا۔
پیر کو یورپ ریڈیو ون سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ ’آئندہ چند ہفتوں‘ میں ملاقات کریں گے جس میں ایران پر عائد کچھ پابندیاں جزوی طور پر اٹھانے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

لوراں فبیوس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں کیونکہ اس وقت دنیا میں کوئی بھی اس اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔
ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے ابتدائی سمجھوتے کو جلد از جلد جامع جوہری معاہدے کی شکل دینے کی کوشش کرے گا۔
ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق جوہری معاملات پر مذاکراتی ٹیم کے سربراہ جواد ظریف نے بھی کہا ہے کہ جوہری معاہدہ ایران کے یورینیئم کی افزودگی کے حق کا تحفظ کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’ہم کل سے ہی متنازع معاملات پر حتمی سمجھوتے کے لیے بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ جامع منصوبہ سب سے اہم مرحلہ ہے۔‘
ایران میں مذاکرات کاروں کی واپسی پر جشن منایا جا رہا ہے اور ایرانی پرچم اور پھول لیے ہجوم نے تہران کے مہرباد ہوائی اڈے پر وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کا استقبال کیا اور انہیں ’امن کا سفیر‘ کہہ کر پکارا۔
ان لوگوں نے نعرے بازی کی جن میں جنگ، پابندیوں، جھکنے اور توہین کے خلاف نعرے شامل تھے۔
ایران آمد کے بعد ہوائی اڈے پر سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ایران اس معاہدے کے لیے ضروری اقدامات کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’ہم جو اقدامات کریں گے وہ اعتماد سازی کے ہوں گے، اور انہیں فوری طور پر واپس لیا جاسکتا ہے لیکن یقیناً ہمیں امید ہے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں ایران میں اتنے بڑے پیمانے پر عوامی دلچسپی کی ایک وجہ اس کے نتیجے میں پابندیوں کا بتدریج خاتمہ بھی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے نتیجے میں پیر کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اسرائیل کو امریکی یقین دہانی
امریکی صدر نے بھی اتوار کی شب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے جس میں براک اوباما نے انھیں بتایا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ فوری مشاورت شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایرانی جوہری عزائم کا جامع اور پائیدار حل تلاش کیا جاسکے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ عبوری جوہری معاہدے کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا تھا جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرق وسطیٰ کو مزید محفوظ خطہ بنائے گا۔
بنیامن نتن یاہو نے اپنے ردِ عمل میں کہا تھا کہ ’دنیا کی سب سے خطرناک قوم دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیار کے حصول کی جانب اہم قدم اٹھانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔‘ اور یہ کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں اور وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر سنیچر کو ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت جہاں چھ ماہ میں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے گا وہیں اس کے بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی کی بدولت تقریباً سات ارب ڈالر بھی حاصل ہو سکیں گے۔







