جنیوا: ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ طے پا گیا

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت جہاں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے گا وہیں اس کے بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی کی بدولت تقریباً سات ارب ڈالر بھی حاصل ہو سکیں گے۔

یہ معاہدہ سوئس شہر جنیوا میں پانچ روزہ بات چیت کے نتیجے میں طے پایا ہے اور یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار کیتھرین ایشن کا کہنا ہے کہ یہ جامع حل کی جانب ’پہلا قدم‘ ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ کے ذریعے سمجھوتہ طے پانے کی تصدیق کی۔ انھوں نے لکھا ’ہمارے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے معاہدے کو پہلا اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا مزید محفوظ ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا اس میں ’ٹھوس حدود شامل ہیں جو کہ ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری سے باز رکھیں گی۔‘

ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی جنیوا میں ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے تبصرے میں کہا کہ اس تعمیری معاہدے نے نئے افق کھول دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف اس لیے ممکن ہوا کہ ایرانی عوام کے انتخابات میں اعتدال پسندی کو چُنا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام اور اقوام کے لیے تاریخی موقع ہے تاہم خطے میں ایران کے سب سے بڑے مخالف اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے اسے ایک برا معاہدہ قرار دیا ہے۔

جنیوا میں موجود ایران کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ یہ ایک دہائی میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والا سب سے اہم سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔

معاہدے کے بعد سنیچر کو رات گئے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے جاری ہونے والے بیان میں امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ معاہدے کی بدولت کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایران کا جوہری پروگرام روک دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مطلب یہ ہےکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید ترقی نہیں دے سکے گا اور کچھ پہلوؤں سے اس پروگرام کو سکیڑا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں کمی کرنے اور عالمی معائنہ کاروں کو اپنی تنصیبات تک رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے اور اس کے بدلے میں اس پر عائد پابندیوں میں بتدریج کمی کی جائے گی۔

ادھر جنیوا میں موجود ایرانی وزیرِ خارجہ نے اصرار کیا ہے کہ یورینیئم کی افزودگی ان کے ملک کا حق ہے اور وہ یہ عمل جاری رکھے گا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ چھ ماہ کے لیے ابتدائی معاہدہ ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو بڑی حد تک محدود کرنا، اس کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور افزودہ یورینیم کی موجودہ کھیپ، جوہری آلات کی تعداد اور صلاحیتوں کے علاوہ ہتھیاروں کے درجے والی پلوٹینیم پیدا کرنے کی ایرانی صلاحیت سمیت دیگر اشد ضروری معاملات پر تحفظات دور کرنے کا آغاز شامل ہے۔

واشنگٹن نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران نے جن رعایتوں کا وعدہ کیا ہے اس سے ایران کے جوہری پروگرام کی شفافیت بڑھے گی اور اس کی زیادہ قریب سے نگرانی ہوسکے گی۔

ان کے بقول معاہدے کا جو مرکزی نکتہ ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد ایران پر کسی حد تک پابندیاں نرم کی جائیں گی مگر ایران کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کررہا ہے ورنہ پابندیاں پھر سے لاگو کردی جائیں گی۔

ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کی جانےوالی ’فیکٹ شیٹ‘ کے مطابق ایران پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی فروخت اور قیمتی دھاتوں کی تجارت سے اربوں ڈالر حاصل کر سکے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کو سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی تجارت سے ڈیڑھ ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں جبکہ تیل اور پیٹروکیمیکلز کی فروخت سے حاصل ہونے والے چار ارب بیس کروڑ ڈالر ایران کو صرف اسی صورت میں اقساط میں دیے جائیں گے اگر وہ معاہدے کی پاسداری کرتا ہے۔