ایران کے خلاف مزید پابندیاں نہ لگائیں: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی قانون سازوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی تجویز نہ دیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ عالمی قوتوں کو موقع فراہم کرے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں معاہدہ مکمل کر سکیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں ہوا تو ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔
<link type="page"><caption> ’ایران پر مزید پابندیاں نقصان دہ ہو سکتی ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/11/131114_iran_sanctions_kerry_congress_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ہم ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت ہی قریب تھے: جان کیری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/11/131112_iran_backed_out_kerry_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں چھ عالمی طاقتیں یعنی پی پانچ+ایک ممالک کے گروپ کے سفارتکار بدھ کو جنیوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں اس دفعہ مذاکرات میں اختلافِ رائے ختم ہو سکتا ہے۔
ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر ایک بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا: ’ہم اپنے وقار اور احترام کی امید اور مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم ایرانیوں کے لیے جوہری توانائی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم کسی کلب کا حصہ بن جائیں یا دوسروں کو دھمکائیں۔ ہمارے لیے جوہری توانائی مستقبل کے بارے میں ہمارے اپنے فیصلے کی اہلیت ہے نہ کہ کوئی دوسرا ہماری جانب سے ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کو صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس میں امریکی سنیٹروں سے تقریباً دو گھنٹے بات کی۔ اس ملاقات میں وزیر خارجہ جان کیری اور نیشنل سکیورٹی کی مشیر سوزین رائس بھی شامل تھیں۔
دریں اثنا بعض امریکی قانون سازوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے جوہری پروگرام پر بہت تیزی سے معاہدہ طے کرنا چاہتا ہے حالانکہ اسے تہران کے ساتھ سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے: ’ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم ایران کے پروگرام کو روک سکیں اور اسے ختم کروا سکیں اور اس کے ساتھ ہمیں اس بات کا بھی پتہ چل سکے گا کہ کیا اس ضمن میں کیا جامع حل کیا جا سکتا ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ابتدائی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو ایران اپنے یورینیئم کے ذخائر میں اضافہ کرے گا اور نئے سنٹری فیوج کی تنصیب کے ساتھ ارک شہر میں پلیوٹونیئم ری ایکٹر کو فروغ دے گا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جے کارنی نے کہا کہ صدر اوباما نے امریکی سینٹروں سے کہا ہے کہ نئی پابندیاں اس وقت زیادہ موثر ہوں گی جب ایران معاہدے سے انکار کر دے یا معاہدے کو تسلیم کرنے کے بعد اسے پورا کرنے میں ناکام رہے۔
صدر اوباما نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں ایران کو 40 ارب ڈالر کی رقم ملے گی۔
واضح رہے کہ سنہ 2006 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک ہیں۔
اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ اور یورپی یونین کی علیحدہ پابندیوں کی وجہ سے ایران میں توانائی اور بینکنگ کا شعبہ متاثر ہے اور تیل پر مبنی اس کی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔







