’ایران پر مزید پابندیاں نقصان دہ ہو سکتی ہیں‘

’ہم ہر کسی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ صبر سے کام لیں اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر غور کریں کہ ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں‘
،تصویر کا کیپشن’ہم ہر کسی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ صبر سے کام لیں اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر غور کریں کہ ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں‘

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے امریکی قانون سازوں سے کہا ہے کہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگانے سے تہران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کو بتایا کہ اقتصادی پابندیاں لگانے سے اس بات کا امکان ہے کہ امریکہ کے مذاکراتی حامی اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔

یہ کمیٹی ایران کے حلاف نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہی ہے تاہم اس پر قانون سازوں کی آرا منقسم ہیں۔

جان کیری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایران اور عالمی طاقتیں حالیہ مذاکرات میں معاہدہ طے کرنے کے بہت قریب ہیں۔

بدھ کو امریکی سینٹرز سے ملاقات سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم ہر کسی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ صبر سے کام لیں اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر غور کریں کہ ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘

اس سے پہلے جان کیری کہہ چکے ہیں کہ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر کوئی بھی تنازع اتنا بڑا نہیں ہے جسے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔

20 نومبر کو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونا ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس شامل ہیں۔ امریکی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ مزید مالی پابندیاں ان مذاکرات میں مزید کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔

چند امریکی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ اوباما انتظامیہ ایران کے معاملے پر حد سے زیادہ تیزی سے کام کر رہی ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔

چند امریکی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ اوباما انتظامیہ ایران کے معاملے پر حد سے زیادہ تیزی سے کام کر رہی ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنچند امریکی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ اوباما انتظامیہ ایران کے معاملے پر حد سے زیادہ تیزی سے کام کر رہی ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے

اوباما انتظامیہ نے ایران کو جوہری پروگرام روکنے کے عوض ایران کی کچھ ضبط شدہریاستی املاک لوٹانے اور مالی پابندیوں میں کمی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

مغربی ممالک کو شک ہے کہ ایران کا یورینیئم کی افزودگی کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ عالمی برادری کے رہنماؤں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جلد بازی میں کسی ’برے معاہدے‘ میں نہ پھنس جائیں۔

بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی خواہش ضرور ہے مگر حکومتوں کو انتظار کرنا چاہیے اور معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے امید ظاہر کی تھی کہ آئندہ مذاکرات میں معاہدہ طے کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ مذاکرات کے نتیجے سے مایوس نہیں ہیں اور ان میں تمام فریق معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے۔

اس کے علاوہ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کاروں کو یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔