’یوکرائن اور یورپی یونین کا معاہدہ روس کے لیے خطرہ ہے‘

روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ یوکرائن اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ روسی معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس میں یورپی اشیا بغیر ٹیکس یا ڈیوٹی ادا کیے روسی مارکیٹوں میں پھیل جائیں گی کیونکہ روس اور یوکرائن میں پہلے ہی آزاد تجارتی معاہدہ موجود ہے۔
گذشتہ ہفتے یوکرائن نے یورپی یونین کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر دستخط کرنا ملتوی کر دیا تھا جس کے بعد روس پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے یوکرائن پر معاہدہ نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
اس کے بعد یوکرائن میں یورپی یونین کی حمایت میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تاہم ملک کے رہنما کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے میں بہتر شرائط چاہتے ہیں۔
یوکرائن کے صدر وکٹور ینوکوچ کا کہنا ہے کہ ’جب اس معاہدے میں ایسی شرائط آ جائیں گی جن پر ہم راضی ہوں اور جو ہمارے مفاد میں ہوں، تب ہم اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ کب ہوگا، جلد یا بہت دیر میں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ میں چاہوں گا کہ یہ وقت جلد از جلد آ جائے۔‘
ادھر ملک میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنا احتجاج کم از کم لیتھوینا میں جاری یورپی یونین کے سربراہی اجلاس تک جاری رکھیں گے۔ یوکرائن نے پہلے اسی اجلاس میں اس معاہدے پر دستخط کرنا تھے۔
اٹلی کے دورے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ اس معاہدے سے روسی معیشت کو نقصان پہنچے گا کیونکہ یورپی اشیا روس میں بغیر واجبات ادا کیے پہنچنے لگیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ روس میں زراعت، کاروں اور جہازوں کی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا اور اس سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا: ’ہم ابھی یورپی اشیا کے لیے اپنے دروازہ کھولنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
اس کے علاوہ صدر پوتن نے یورپی اہلکاروں سے کہا کہ وہ اس معاملے میں تلخ الفاظ استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’کیا برسلز میں ہمارے دوست ہمیں تب پسند کریں گے جب ہم ان کے لیے اپنی معیشت کے مکمل سیکٹرز قربان کر دیں؟‘







