شام: معضمیہ کے فاقہ کشوں کو نقل مکانی کی اجازت

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں بسنے والے ہزاروں باشندوں کو بالآخر علاقے سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
معضمیہ نامی علاقہ زیادہ تر باغیوں کے زیرِ اثر ہے اور مارچ سے حکومتی فوج نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا۔
دمشق میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار لیسی ڈوسٹ نے بتایا کے مارچ سے علاقے میں قید ہو جانے والے لوگوں کا ہجوم وہاں سے نکل رہا ہے۔
<link type="page"><caption> شام: اقوام متحدہ کی دمشق کے نواح میں جنگ بندی کی اپیل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131019_un_syria_urgent_ceasefire_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شام:’دمشق کے مضافات میں ہزاروں فاقہ کشی پر مجبور‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131019_syria_us_allow_aid_civilians_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
معضمیہ میں بنیادی ضرورت کا سامان تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور مقامی افراد نے فاقے سے بچاؤ کے لیے فریقین سے التجا کی تھی۔
مقامی افراد کی نقل مکانی حکومت فورسز کی جانب سے محاصرے میں نرمی کے بعد ممکن ہو پائی ہے۔
اس سے پہلے شامی فوج کہہ چکی ہے کہ معضمیہ سمیت باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں لوگ ہتھیار ڈال دیں بصورتِ دیگر انہیں فاقہ کشی کا سامنا کرنا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دمشق کے کم سے کم تین مضافاتی علاقوں اليرموك، مشرقی غوطہ اور معضمیہ کو حکومتی فورسز نے کئی ماہ سے محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔
ان علاقوں میں صورتحال اس وقت انتہائی پریشان کن ہو گئی تھی جب مسملان علماء نے فتوی دیا تھا کہ لوگ فاقہ کشی سے بچنے کے لیے بلیاں، کتے اور گدھوں کا گوشت کھا سکتے ہیں۔
معضمیہ سے آنے والی ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے نو مہینے سے روٹی کا ٹکڑا نہیں دیکھا، ہم پتے اور گھاس کھاتے تھے۔‘
ایسے میں جب معضمیہ سے زیادہ تر عام شہری نکل چکے ہیں علاقے میں باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کا امکان ہے۔
اس اثناء میں عالمی ادارہء صحت نے شام میں پولیو کے دس کیسز کی تصدیق کی ہے۔ گذشتہ چودہ سال میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس بیماری کے کیسز سامنے آئے ہوں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق بارہ زمید کیسز کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دو ہزار گیارہ میں شام کی خانہ جنگی کے آغاز سے قبل پچانوے فیصد بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کی ویکیسن دی گئی تھی۔ لیکن اب ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ بچے اس دوا سے محروم ہیں۔
ایسی افواہیں بھی ہیں کہ ملک لڑائی کے لیے آنے والے غیر ملکی جنگجو یہ بیماری شام میں لے کر آئے ہیں۔
یہ بیماری ترقی یافتہ ممالک سے لگ بھگ ختم ہو چکی ہے تاہم بعض ترقی پذیر ممالک میں یہ اب بھی عام ہے جن میں نائجیریا ، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔
دوسری جانب منگل کو شام کے نائب وزیرِ اعظم قادری جمیل کو حکومت کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے پر ان کے عہدے سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
قادری جمیل کو رواں ہفتے کے آخر میں جنیوا میں امریکی حکام سے مل کر امن مذاکرات پر بات کرنی تھی۔
لیکن ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے صناء کا کہنا ہے کہ نائب وزیرِ اعظم کو صدر بشارالاسد نے برخاست کر دیا ہے ’کیونکہ انہوں نے بغیر اجازت نے اپنا کام چھوڑا اور اپنے فرائض انجام نہیں دیے‘۔







