شام پر حملے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا: صدر اوباما
شامی حکومت کیمیائی حملے میں ملوث

امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ انھوں نے ابھی تک شام کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ دمشق میں ہونے والے کیمیائی حملے میں شامی حکومت کا ہاتھ تھا۔
ایک امریکی ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ شام کی طرف سے کیمیائی حملے کی وجہ سے امریکہ کا قومی مفاد متاثر ہوا ہے اور یہ کہ شام کو ایک تنبیہی پیغام بھیجنے سے شام کی جنگ پر مثبت اثر پڑے گا۔
اس سے قبل برطانیہ نے ایک مجوزہ قرارداد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے سامنے پیش کی جس میں شام میں عام شہریوں کو بچانے کے لیے تمام اقدامات کی اجازت‘ کی بات کی گئی ہے۔
اس قراردار میں برطانیہ نے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ’ناقابلِ تسلیم‘ استعمال کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس سے قبل ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے‘۔
دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کے کسی قرارداد پر غور کیا جائے، اقوامِ متحدہ کو اپنی تحقیقات لازمی مکمل کرنی چاہییں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک معائنہ کاروں کی رپورٹ سامنے نہیں آ جاتی تب تک کسی قرارداد کا مسودہ زیرِ غور نہیں لایا جانا چاہیے۔
روس اور چین اس سے قبل شام کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام نے مغرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فوجی حملے کے لیے بہانے ’ایجاد‘ کیے ہیں۔
شامی وزیر اعظم وئیل الحلقی نے شام کے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’امریکہ سے لے کر تمام مغربی ممالک جعلی منظر نامے اور افسانوی عذر تراش رہے ہیں تاکہ شام میں فوجی مداخلت کی جا سکے‘۔
برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ عالمی برادی کی ذمہ داری ہے کہ وہ شامی حکومت کے خلاف اس صورت میں بھی کارروائی کریں اگر اقوامِ متحدہ میں اتفاقِ رائے نہیں ہوتا۔
اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار ان دنوں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ متوقع ہے کہ ماہرین اپنی تحقیقات چار دنوں میں مکمل کر لیں گے اور اس کے بعد انہیں اپنے حاصل کردہ مواد کا تجزیہ کرنے کے لیےمزید وقت چاہیے ہو گا۔
سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپیل کی کہ ان کی ٹیم کو ’کام کرنے کے لیے وقت دیا جائے‘۔
’عالمی ادارہ جس کے ذمے عالمی امن اور سلامتی ہے کو اس معاملے میں عمل سے دور نہیں رہنا چاہیے‘۔
بان کی مون نے مزید کہا کہ ’امن کو موقع دیں، سفارت کاری کو موقع دیں، لڑائی بند کر کے بات چیت شروع کریں‘۔
شام کے معاملے پر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی نے کہا ہے کہ شام کی جانب سے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں کوئی بھی فوجی کارروائی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد ہی کی جائے گی۔
جنیوا میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور روس کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ کیمیائی حملہ کس نے کیا ہے تو وہ یہ ثبوت اقوامِ متحدہ کو فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مسودہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے کیمیائی حملے کی مذمت کرتا ہے۔
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم نے اکیس اگست کے مبینہ کیمیاوی حملے کے بارے میں تحقیقات کا کام دوبارہ شروع کر دیا۔
اس سے پہلے امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا تھا کہ صدر براک اوباما کی جانب سے شام پر حملے کے احکامات کی صورت میں امریکی افواج شام پر حملے کے لیے تیار ہیں۔
اس سے قبل شام کے وزیرِخارجہ ولید معلم کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ شامی افواج نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔
امریکہ اور اس کے حلیف شام میں گذشتہ ہفتے کے کیمیائی حملے کے جواب میں ملک میں عسکری مداخلت پر غور کر رہے ہیں۔
حملے کی صورت میں شام کیا کرے گا؟

اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہا ہے تو ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے جواب میں شام کے پاس کیا راستہ ہے۔
جس طرح کے حملے کی بات کی جا رہی ہے اس سے خود کو بچانے کے لیے شام کی حکومت کیا کر سکتی ہے اور جوابی کارروائی کے لیے کس طرح کے اقدامات کا امکان ہے۔
اس کارروائی میں فکسڈ ونگ طیارے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا ہے تو ان کے ذریعے شام کی فضائی حدود کے باہر سے یہ حملے کیے جا سکتے ہیں جس کا مقابلہ شام کے دفاعی نظام کے لیے مشکل ہوگا۔
شام کا فضائی دفاعی نظام بہترین ہوا کرتا تھا۔ تاہم یہ پرانے روسی ہتھیاروں پر مشتمل ہے جن میں حال ہی میں کچھ نئے ہتھیار بھی شامل کیے گیے ہیں جن میں چین کا سپلائی کیا گیا ریڈار سسٹم بھی ہے۔
تاہم مغربی ممالک کی جدید فضائیہ ان ہتھیاروں سے اچھی طرح واقف ہے جو شام کے پاس ہیں۔
ابھی شام کے ایس 300 سسٹم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا جو شام نے ماسکو سے منگوائے تھے۔ یہ سسٹم یا تو ابھی سپلائی نہیں کیا گیا یا پھر آپریشنل نہیں ہے۔
تو شام اگر خود ان حملوں کا جواب نہیں دے سکا تو پھر اس کی جوابی کارروائی کیا اور کیسے ہوگی۔
ایک راستہ تو یہ ہوگا کہ شام ملک کے اندر باغیوں کے خلاف حملے شدید کردے تاکہ اپنی افواج کی حوصلہ افزائی کر سکے اور امریکہ اور اس اتحادیوں کو یہ پیغام دے سکے کہ اسد حکومت اپنے موقف پر قائم ہے۔
دوسرا متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ اردن میں امریکی افواج، ترکی یا پھر اسرائیل پر حملہ کر کے اس لڑائی کا دائرہ وسیع کر دے۔ اس صورتِ حال میں بشار الاسد حکومت کے لیے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ اردن میں امریکی افواج اور ترکی خود اپنا دفاع کر سکتا ہے۔
دونوں ہی ممالک میں میزائل شکن نظام موجود ہے اور اسرائیل پر حملے کے امکان کم ہیں کیونکہ شام کی فوج خانہ جنگی میں الجھی ہوئی ہے۔
اسرائیل کے خلاف حملہ ایک بڑی جوابی کارروائی میں تبدیل ہو سکتا ہے جو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جو نہ تو دمشق کے حق میں ہوگا اور نہ ہی ایران کے حق میں۔
شام دوسرے ممالک میں امریکی اور مغربی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے حزب اللہ کا استعمال کر سکتا ہے۔

’امریکہ شام پر حملے کے لیے تیار ہے‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شام کی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔‘
اس سے پہلے امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل کا کہنا تھا کہ صدر براک اوباما کی جانب سے شام پر حملے کے احکامات کی صورت میں امریکی افواج حملے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم نے صدر کے کسی بھی حکم پر عمل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں‘۔
اس سے قبل شام کے وزیر خارجہ ولید معلم کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ شامی افواج نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔
امریکہ اور اس کے حلیف شام میں گذشتہ ہفتے کے کیمیائی حملے کے جواب میں ملک میں عسکری مداخلت پر غور کر رہے ہیں۔
چک ہیگل کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع نے صدر اوباما کو ’ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز‘ سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے جون سوپل کو بتایا کہ صدر اوباما ’صدر تمام صورتحال سے واقف ہیں اور ہم تیار ہیں۔‘
چک ہیگل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی جانب سے اکٹھے کیے جا رہے شواہد سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ شام کی حکومت گزشتہ ہفتے ہونے والے کیمیائی حملوں میں ذمہ دار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ واضح ہے کہ شام میں لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں‘۔
’میرے خیال سے ان معلومات سے پتہ چل جائے گا گا کہ ان ہتھیاروں کا استعمال باغیوں نے نہیں کیا اور اس بات کے ٹھوث شواہد ہوں گے کہ اس میں شام کی حکومت ملوث تھی۔ لیکن ہم حقایق کے سامنے آنے کا انتظار کریں گے‘۔
چک ہیگل کا بیان اس وقت آیا جب ایک دن قبل ہی وزیر خارجہ سینیٹر جان کیری نے شام کی حکومت پر دمشق کے نواح میں گولا باری کر کے کیمیائی حملوں کے شواہد کو ختم کرنے کا الزام لگایا تھا۔
پیر کو معائنہ کاروں کی ٹیم متاثرہ علاقے کی جانب جاتے ہوئے فائرنگ کے زد میں آ گئی تھی۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک سخت بیان میں شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ’ناقابلِ تردید‘ استعمال کی مذمت کی ہے۔ جان کیری نے دمشق کے مضافات میں ان حالیہ حملوں کو’اخلاقی بد تہذیبی‘ قرار دیا۔
جان کیری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو کچھ ہم نے شام میں گزشتہ ہفتے دیکھا ہے اس سے دنیا کے ضمیر کو ضرور جاگنا چاہیے۔‘
شامی حکومت اور حزبِ مخالف دونوں ایک دوسرے پر اس کیمیائی حملے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
شام کے خلاف مغربی ممالک کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے پیش نظر ایشیا اور یورپ کی شیئر مارکیٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دبئی میں دو ہزار نو میں آنے والے معاشی بحران کے بعد سے شیئرز کی قیمت میں سب سے زیادہ سات فیصد کمی آئی ہے۔ ایشیا کے دوسری مارکیٹوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ یورپ کی مارکیٹ میں اوسطاً ساڑھے ایک فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
خام تیل کے ایک بیرل کی قیمت ایک سو بارہ امریکی ڈالر سے بڑھ گئی ہے۔ تیل کے بیرل کی قیمت میں اضافہ شام پر حملے سے خطے کی تیل کی برآمدات متاثر ہونے کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔
مداخلت کے حامی اور مخالف ملک


ماضی میں بین الاقوامی فوجی مداخلت کے ماڈل
مغربی طاقتیں شام کے صدر بشار الاسد کی مخالفین کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہاں ماضی میں سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں مغربی افواج کی جانب سے فوجی کارروائی کی چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں امریکی فوج کئی بین الاقوامی کارروئیوں میں شامل رہی ہے جس میں 1991 میں بڑے پیمانے پر ہونے والی خلیجی جنگ اور صومالیہ میں ’بلیک ہاک ڈاؤن ‘ جیسے واقعات شامل ہیں۔
’ڈیزرٹ سٹورم‘ نامی اس آپریشن کو بین الاقوامی مداخلت کی بہترین مثال قرار دیا جاتا ہے۔
امریکہ کی سربراہی میں عالمی افواج نے کویت سے عراقی فوجوں کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا جس کے لیے انہیں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بھاری مینڈیٹ حاصل تھا۔ اس آپریشن کے مقاصد واضح اور محدود تھے۔
امریکہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے پابندی کے باوجود کرویشیا اور بوسنیا میں سربوں کے خلاف مزاحمت کاروں کو اسلحہ فراہم کیا اور بعد میں نیم فوجی سرب دستوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا۔
1999 میں امریکہ نے سربیا کی جانب سے کوسوو میں جاری قتل عام روکنے کے لیے نیٹو میں اہم کردار ادا کیا۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے صومالیہ میں انسانی بحران اور حکومت کی ناکامی کے پیش نظر امدادی کارروائیوں کے لیے دسمبر 1992 میں ایک بین الاقوامی فورس تشکیل دی۔
امریکہ شروع میں اس آپریشن میں شامل نہیں تھا لیکن بعد میں اس کا حصہ بن گیا۔
امریکہ بغیر کسی واضح مقصد کے اس میں شامل ہوگیا اور اکتوبر 1993 میں موگادیشو کی لڑائی جسے عام طور پر آپریشن ’بلیک ہاک ڈاؤن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے میں اس کے اٹھاری فوجی ہلاک ہوگئے۔
اس واقعے نے صومالیہ میں امریکہ کی مداخلت کے بارے میں امریکی عوام کی رائے کو بدل دیا اور پینٹاگان کو جلدی میں وہاں سے اپنی فوج کو نکالنا پڑا جبکہ صومالیہ میں خانہ جنگی جاری رہی۔
پینٹاگان کی کتابوں میں اس آپریشن کا شمار ان مثالوں میں ہوتا ہے کہ کس طرح ایک بین الاقوامی آپریشن نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس مرتبہ امریکہ نہیں بلکہ فرانس اور برطانیہ نے بن غازی کے عوام کو قذافی کی حامی افواج کے ظلم سے بچانے کے لیے انسانی بنیادوں پر آپریشن شروع کرنے کی قرارداد پیش کی۔ روس اور چین نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی لیکن اسے ویٹو بھی نہیں کیا۔ قذافی کی حکومت کے خاتمے تک فضائی حملے جاری رہے۔







