شام پر حملہ تباہ کن ہوگا: روس

اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم کے ارکان دمشق کے نواحی علاقے میں کیمیائی حملے کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم کے ارکان دمشق کے نواحی علاقے میں کیمیائی حملے کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں

روس نے کہا ہے کہ شام پر فوجی حملے سے خطے پر ’تباہ کن‘ اثرات مرتب ہوں گے۔ روس کی جانب سے یہ وارننگ اس وقت آئی ہے جب امریکہ اور اس کے حلیف گذشتہ ہفتے کے کیمیائی حملے کے جواب میں شام پر حملے پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک سخت بیان میں شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ’ناقابلِ تردید‘ استعمال کی مذمت کی ہے۔ جان کیری نے دمشق کے مضافات میں ان حالیہ حملوں کو’اخلاقی بد تہذیبی‘ قرار دیا۔

جان کیری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کچھ ہم نے شام میں گزشتہ ہفتے دیکھا ہے اس سے دنیا کے ضمیر کو ضرور جاگنا چاہیے۔‘

ادھر اقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کار گذشتہ ہفتے شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں ہونے والے کیمیائی حملے کی تحقیقات دوسرے دن دوبارہ شروع کریں گے۔

پیر کے روز یہ ٹیم متاثرہ علاقے تک جانے کی کوشش میں فائرنگ کے زد میں آ گئی تھی۔

<link type="page"><caption> شام: اقوام متحدہ کیمیائی حملے کی تفتیش کرے گا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/08/130825_syria_un_inspectors_sa.shtml" platform="highweb"/></link>

شامی حکومت اور حزبِ مخالف دونوں ایک دوسرے پر اس کیمیائی حملے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان الیکساندر لکاشیوچ نے منگل کے روز کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس بحران پر ’عقل مندی‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا: ’سلامتی کونسل کو نظرانداز کر کے علاقے میں فوجی مداخلت کے لیے مصنوعی بہانے تخلیق کرنے کی کوششوں سے شام میں مسائل پیدا ہوں گے اور مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دوسرے ممالک پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔‘

فلاحی طبی تنظیم میدساں ساں فرانتیار نے کہا ہے کہ دمشق میں اس کے تین ہسپتالوں میں گذشتہ بدھ کو 3600 ایسے مریضوں کا علاج کیا گیا جن میں اعصابی زہر آلودگی کی علامات تھیں۔ ان میں سے 355 ہلاک ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں نے پیر کو شہر کے مغربی علاقے معظمیہ میں تقریباً تین گھنٹے گزارے، جہاں انھوں نے دو ہسپتالوں کا دورہ کیا اور مریضوں، عینی شاہدوں اور ڈاکٹروں سے بات کی۔ اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ٹیم نے نمونے بھی حاصل کیے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’سب کو جان لینا چاہیے کہ صدر اوباما یقین رکھتے ہیں کہ ایسے افراد جو دنیا کے وحشیانہ ترین ہتھیارووں کو دنیا کے کمزورترین افراد کے خلاف استعمال کرتے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کے پاس ان حالیہ حملوں کے بارے میں اضافی معلومات ہیں جو آنے والے دنوں میں منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’بجائے اجازت دینے کے اس حکومت نے باقاعدہ ثبوت تباہ کیے اور علاقے پر گولہ باری کی جو کسی ایسی حکومت کا طرزِ عمل نہیں ہے جو کچھ نہ چھپانا چاہتی ہو۔ شامی حکومت کی جانب سے معائنے کی اجازت بہت تاخیر سے آئی ہے اور اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان بیانات کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے جان کیری کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کے حوالے سے ہمارے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ شامی حکومت قصوروار ہے‘۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک کار پر ’متعدد‘ فائر کیے گئے جس سے قافلے کو واپس مڑنے پر مجبور ہونا پڑا
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک کار پر ’متعدد‘ فائر کیے گئے جس سے قافلے کو واپس مڑنے پر مجبور ہونا پڑا

زعتری پناہ گزین کیمپاس سے قبل قوامِ متحدہ نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ شامی حکومت اور باغیوں سے اپنے ماہرین کی ٹیم پر فائرنگ کے واقعے پر شکایت کرے گی جو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ دمشق میں موجود اپنے معائنہ کاروں سے کہیں گے کہ وہ اس معاملے پر ’پرزور شکایت کریں‘ تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے پیر کو اس کے ماہرین کی اس ٹیم پر فائرنگ کی ہے جو شام کے دارالحکومت میں مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کرنے کے لیے جا رہی تھی۔

ایک کار پر ’متعدد‘ فائر کیے گئے جس سے قافلے کو واپس مڑنے پر مجبور ہونا پڑا مگر گاڑی تبدیل کرنے کے بعد ماہرین نے فوراً دوبارہ تحقیقات شروع کر دیں۔

شامی سرکاری میڈیا نے اس حملے کا الزام حزبِ مخالف کے ’دہشت گردوں‘ پر عائد کیا ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ شام پر سفارتی دباؤ نے کوئی اثر نہیں کیا اور اس کے خلاف اقوامِ متحدہ کی طرف سے متفقہ حمایت کے بغیر بھی کارروائی ممکن ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اور برطانیہ شامی کشیدگی کے بارے میں ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے اس معاملے پر کوئی بھی ردِعمل ’بین الاقوامی قوانین‘ کے مطابق ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ کوئی ماہرین کو خوف زدہ کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ وہ شام کے خلاف کسی کارروائی کو حتمی یا خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔

صدر اوباما نے برطانیہ اور فرانس کے سربراہان سے شام کے معاملے پر بات چیت کی ہے
،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے برطانیہ اور فرانس کے سربراہان سے شام کے معاملے پر بات چیت کی ہے

ان کا کہنا تھا کہ’ہم اکیسویں صدی میں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ بے رحمی سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہو۔‘ انھوں نے اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔‘

اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لیے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو اجازت دینے کا فیصلہ بہت دیر سے آیا تھا اور اب وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر براک اوباما نے اپنے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس سے رابطے کیے تھے۔

ادھر شام کے صدر بشارالاسد نے کہا تھا کہ شام میں امریکہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت ناکام ہوگی۔

انھوں نے روسی اخبار ازویستیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام’احمقانہ بات ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شام کو مغرب کی کٹھ پتلی حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے رو وہ اس میں کامیاب نہیں ہو گا۔‘

بشارالاسد نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ شام اور روس کے دیرینہ تعلقات ہے اور روس شام کو وہ کچھ دے رہا ہے جو ملک کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔

انھوں نے شامی باغیوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا اور کہا کہ ماہانہ ہزاروں غیر ملکی جنگجو شام میں داخل ہوتے ہیں۔

شام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مسٹرڈ گیس اور سیرن کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ شام ان سات ممالک میں شامل ہے جنھوں نے 1997 میں کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔