امریکہ:’قرض کی حد پر عدم اتفاق دنیا کے لیے تباہ کن‘

عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی قرض کی حد میں اضافے کے بحران کی وجہ سے امریکہ کے لیے ’ایک خطرناک وقت‘ چند ہی دن دور رہ گیا ہے۔
انہوں نے امریکی قانون دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ جمعرات کی حتمی مدت سے قبل ہی حکومت کے قرض لینے کی حد میں اضافے پر سمجھوتہ کر لیں۔
جمعرات کو امریکہ کا قرض مقررہ حد تک پہنچ جائے گا اور اگر قرض لینے کی حد نہیں بڑھائی گئی تو سترہ اکتوبر کو امریکی حکومت کے پاس اپنے اخراجات کے لیے رقم ختم ہو جائے گی۔
جم یونگ کم کے خیال میں یہ ’دنیا بھر کے لیے تباہ کن واقعہ‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں عالمی بینک کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس ڈیڈ لائن کے جتنا نزدیک جائیں گے، ترقی پذیر دنیا پر اس کے اثرات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو اس کا نتیجہ شرحِ سود میں اضافے، اعتماد کی کمی اور بڑھوتری کی شرح میں کمی آنے شکل میں نکل سکتا ہے۔‘
جم یونگ کم نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف ترقی پذیر دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا بلکہ اس سے ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
خیال رہے کہ امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ رپبلکن پارٹی سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن رپبلکنز کی جانب سے قرضوں کی حد میں اضافے اور حکومتی سرگرمیوں کی بحالی کے بدلے میں پالیسی رعایت کا مطالبہ ’بھتہ خوری‘ کے مترادف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہینر نے کہا تھا کہ صدر کا یہ موقف کہ وہ اس وقت تک رپبلکنز سے بات نہیں کریں گے جب تک وہ ’ہتھیار نہیں ڈال دیتے‘، زیادہ دیر تک برقرار رہنے والا نہیں اور قرض کی حد کے معاملے پر بات چیت میں یہ معاملہ ضرور زیرِ بحث آنا چاہیے کہ قوم کیسے اپنے ذرائع سے کہیں زیادہ خرچ کر رہی ہے۔







