’شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل شروع‘

شامی ہتھیاروں کی مکمل تلفی کے لیے 2014 کے وسط تک کی مدت رکھی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنشامی ہتھیاروں کی مکمل تلفی کے لیے 2014 کے وسط تک کی مدت رکھی گئی ہے

کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کے عالمی مشن سے وابستہ ماہرین نے شام میں کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کرنے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کام آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز کے ماہرین کر رہے ہیں۔

او پی سی ڈبلیو نامی یہ مشن شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے بعد منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔

مشن کے حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کے ابتدائی مرحلے میں وہ کیمیائی مادوں کی آمیزش کرنے اور انہیں ہتھیاروں میں بھرنے کے آلات کے ساتھ ساتھ کچھ کارآمد ہتھیار بھی تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

معائنہ کاروں اور اقوامِ متحدہ کے عملے نے اس مقام کی نشاندہی نہیں کی جہاں سے تلفی کا عمل شروع کیا جائے گا تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی تباہی کی ویڈیوز جاری کریں گے۔

مشن کے ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھی بتایا کہ ’ٹیم(کیمیائی ہتھیاروں کی) تصدیق اور انہیں ناکارہ بنانے کا عمل شروع کر رہی ہے۔‘

ذرائع کا کہنا تھا کہ ’آج تلفی کے عمل کا پہلا دن ہے اور میزائلوں کے وار ہیڈز، کیمیائی بموں اور کیمیائی مواد کی آمیزش کرنے والا آلات کو بھاری گاڑیوں تلے کچل کر تباہ کر دیا جائے گا۔‘

خیال ہے کہ شام کے پاس تقریباً ایک ہزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے اور طے شدہ منصوبے کے تحت شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو آئندہ سال کے وسط تک تلف کیا جانا ہے۔

گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر متفق ہو گئی تھی کہ شامی ہتھیاروں تلف کر دیے جائیں۔

سلامتی کونسل میں یہ قرارداد امریکہ اور روس کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں پیش کی گئی تھی۔ اس معاہدے سے قبل روس نے شامی حکام کو کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

شام میں جاری تنازع کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ رواں برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب21 شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا موقف ہے کہ اس حملے کی ذمہ دار شامی حکومت تھی جبکہ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں 2011 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔