مصر: مرسی حامی مظاہروں میں چار افراد ہلاک

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے تصادم میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔
میڈیکل حکام کا کہنا ہے کہ اس تصادم میں چالیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ گولیوں اور دھماکوں سے مصری دارالحکومت قاہرہ کا مرکزی علاقہ بری طرح متاثر ہوا۔
فوج نے ہجوم کو معروف تحریر سکوائر کی جانب جانے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور گولیاں چلائیں۔
واضح رہے کہ تحریر سکوائر کو سنہ 2011 میں مصری صدر حسنی مبارک کو کامیابی کے ساتھ ہٹانے کے لیے انقلاب کی علامتی حیثیت حاصل ہے اور اسی لیے اسے مرسی حامیوں کے قابض ہوجانے سے بچانے کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مرنے والے تمام افراد کا تعلق سابق صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے حامیوں سے ہے۔ یہ افراد قاہرہ کے نواح میں دو الگ الگ مقامات پر تصادم کے درمیان مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ٹی وی کے مطابق دارالحکومت میں تصادم کے شروع ہوتے ہی شمالی ضلع شرقیہ اور غیزہ کے مشرق کے علاوہ ملک کے شمالی شہر اسکندریہ میں بھی تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔
دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بعض مقامات پر مرسی حامی اور ملٹری حکومت کے حامیوں کے درمیان بھی تصادم ہوئے ہیں۔
قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹین سومر ویلے کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے کرفیو لگائے جانے سے قبل قاہرہ کی سڑکوں پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
انھوں نے کہا ہے کہ قاہرہ میں فی الحال بڑی تعداد میں محافظ دستے موجود ہیں۔
خیال رہے کہ جولائی میں فوج کے ہاتھوں محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد سے مصر میں سینکڑوں اسلام پسند مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران اخوان المسلمین کے ہزاروں اراکین کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔
ہجوم کو تشدد اور قتل و غارت گری پر اکسانے کے الزام میں برطرف صدر مرسی سمیت پارٹی کے اہم رہنما اور تحریک کے رہنما محمد بدیع زیر حراست ہیں۔
مصری حکام اس کریک ڈاؤن کو ’دہشت گردی‘ کے خلاف جددجہد سے تعبیر کرتے ہیں اور وہ اخوان المسلمین کی املاک کو ضبط کرنے کی تیاری میں ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں عدالت نے ان کی سرگرمی پر پابندی لگانے کی اپیل کو قبول کر لیا ہے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ کے علاقے اغوزہ میں لوگ ’رباع، رباع‘ کا نعرہ لگا رہے تھے جہاں اگست میں مسجد رباع الاداویہ کے نزدیک ہڑتال جاری تھی اور اسے فوج نے زبردستی خالی کروایا تھا۔







