قاہرہ: وزیر داخلہ کے قافلے پر بم حملہ

قاہرہ میں مصری وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے قافلے پر بم حملہ ہوا ہے تاہم وہ اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔
حملے کے کچھ گھنٹوں بعد انہوں نے ملک کے سرکاری ٹی پر آکر اس حملے کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں ان کے کئی محافظ زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ کے قافلے پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے نکل کر دفتر کی طرف جا رہے تھے۔
نصر ضلع اخوان المسلیمن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے مگر ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ وزیر داخلہ پر حملہ کس نے کیا ہے۔
ابھی تک دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے مینا نے سرکاری حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ دھماکہ خیز مواد نصر شہر کی گلی النہاس سٹریٹ میں اس وقت ہوا جب وزیر دفتر کے لیے روانہ ہوئے۔
انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ خاصہ شدید تھا جس سے قریبی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیکورٹی فورسز کے ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ مصری پولیس نے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
مصر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ’دہشتگرد گروہوں‘ کی جانب سے وزیر داخلہ کو قتل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔
وزیر داخلہ ملک کی پولیس اور ان سکیورٹی فورسز کے انچارج ہیں جنہوں نے ملک کے داراحکومت میں گزشتہ ماہ کریک ڈاؤن کر کے معذول صدر مرسی کے حامیوں کے کیمپوں کو ختم کروایا تھا۔
اس کے بعد اخوان المسلمین کے سینکڑوں حامیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
قاہرہ میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق کچھ عرصے سے اس علاقے میں اخوان المسلمین کی کارروائیاں تیز ہوئی ہے۔
معذول صدر مرسی کو ایک خفیہ جگہ پر حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کے خلاف دسمبر دو ہزار بارہ میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران قتل کے لیے اکسانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔







