مصر: اخوان کےگڑھ میں آپریشن، پولیس جنرل ہلاک

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قریب اخوان المسلمین کا گڑھ سمجھے جانے والے قصبے کرداسہ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران پولیس جنرل ہلاک ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے کئی گھنٹوں تک شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد قصبے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ گزشتہ ماہ قاہرہ میں اخوان المسلمین کے کارکنوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد اخوان المسلمین کے حامیوں نے کرداسہ میں پولیس سٹیشن کو آگ لگا دی گئی تھی جس میں گیارہ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کو کرداسہ میں جب سکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا تو سکول کی چھتوں اور مسجدوں پر پوزیشنیں سنبھالے ہوئے شدت پسندوں نےسکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سینیئر پولیس افسر جنرل نبیل فاراگ ہلاک ہوگئے ہیں۔
محمد مرسی کو اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد مصر کی سکیورٹی فورسز کا یہ دوسرا بڑا آپریشن ہے۔ اس سے پہلے سکیورٹی فورسز نے قاہرہ میں محمد مرسی کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیےکیے جانے والے آپریشن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
پولیس گزشتہ ماہ کرداسہ میں ہلاک ہونے والے 11 پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کو تلاش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق انہوں نے 55 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
آپریشن کے آغاز کے کئی گھنٹوں بعد سکیورٹی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور فورسز کو فائرنگ سے بچنے کے لیے پناہ لینے کی ضرورت پڑی ہے۔
اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کرداسہ میں آپریشن مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے شروع کیا، جس میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹن سمرول کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جھڑپیں نامعلوم افراد کے ساتھ ہو رہی ہیں جنہوں نے عمارتوں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔
اس سے قبل مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اخوان المسلمین کے کارکنوں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی لے رہی ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق سکیورٹی فورسز کے آپریشن سے قبل کرداسہ میں ہزاروں افراد نے معزول صدر محمد مرسی کے حق میں کیے جانے والے جلسے میں شرکت کی۔
اس جلسے میں شرکا نے مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی کے خلاف نعرے لگائے۔
واضح رہے کہ پچھلے ماہ کرداسہ میں پولیس سٹیشن پر حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

حکام نے کہا تھا کہ پولیس سٹیشن پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سینٹرل سکیورٹی کے نائب وزیر داخلہ میجر جنرل اشرف عبداللہ نے آپریشن سے قبل سکیورٹی فورسز سے ملاقات کی اور نماز ادا کی۔
مصر کی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ کچھ عناصر عمارتوں کی چھتوں پر موجود ہیں اور فائرنگ کر رہے ہیں اور سکیورٹی فورسز ان سے نمٹ رہی ہے۔
خیال رہے کہ مصر کی سکیورٹی افواج کی جانب سے قاہرہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دو احتجاجی کیمپوں پر کارروائی کے بعد ملک میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔
قاہرہ میں 14 اگست کو رابعہ العداویہ مسجد کے باہر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے دو احتجاجی دھرنوں کو منشتر کرنے کی کوشش کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







