مصر: ہلاکتوں کی تعداد 278، ایمرجنسی نافذ

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی میں سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد ملک میں ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

ملک کے عبوری وزیراعظم حازم ببلاوي نے کہا ہے کہ اہلکاورں نے یہ کارروائی ’سکیورٹی کی بحالی‘ کے لیے کی اور یہ ایک آسان فیصلہ نہیں تھا۔

سکیورٹی فورسز نے بدھ کو قاہرہ میں محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے حامیوں کے دو کیمپوں پر دھاوا بول کر ان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

مصر کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں 235 افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ اخوان المسلمین نے دو ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

مصری وزارتِ داخلہ کے مطابق جھڑپوں میں 43 پولیس اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

اس آپریشن کے دوران اخوان المسلمین کے اہم ارکان کو حراست میں بھی لیا گیا ہے اور کارروائی کے بعد دارالحکومت قاہرہ اور دیگر چند شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے

مصری ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالت اور شہروں میں کرفیو کے نفاذ کے اقدامات کی وجہ ’شدت پسند گروہوں کی جانب سے عوامی اور سرکاری املاک پر حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان سے قوم کو لاحق خطرات ہیں۔‘

ادھر حکومتی افواج کی کارروائی کے بعد مصر کے نائب صدر محمد البرادعی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’میں اب ان فیصلوں کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا جن سے میں اتفاق نہیں کرتا اور مجھے اس کے نتائج کا خوف ہے۔ میں خون کے ایک بھی قطرے کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔‘

مصر کے عبوری وزیراعظم نے بدھ کی شام ٹی وی پر خطاب میں سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک سے ہنگامی حالت جتنی جلدی ممکن ہوئی اٹھا لی جائے گی۔

اس کے علاوہ مصری وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ مسلح گروہ محمد مرسی کے حامیوں میں شامل ہوگئے تھے اور بدھ کو مصر بھر میں 43 پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کسی کو ملک میں کسی بھی جگہ دھرنا دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سکیورٹی اہلکاروں نے محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی بدھ کی صبح شروع کی تھی اور ریاستی ٹی وی پر قاہرہ کے مشرق میں واقع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر مرکزی احتجاجی کیمپ میں اہلکاروں کوگھستے ہوئے دکھایا گیا۔

اس کے علاوہ حکام نے کہا ہے کہ مغربی قاہرہ میں واقع نہدہ چوک کو بھی خالی کروا لیا گیا ہے۔

مظاہرین نے مسجدِ رابعہ اور نہدہ چوک میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے دھرنا دے رکھا تھا اور اس دوران سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں پہلے ہی ڈھائی سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ معزول صدر مرسی کو بحال کیا جائے جنھیں فوج نے تین جولائی کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔

بی بی سی عربی کے نامہ نگار خالد ازلارب کا کہنا ہے کہ مسجد رابعہ العدویہ کے قریب بنائے گئے عبوری ہسپتالوں میں انھوں نے خود پچاس لاشیں گنی ہیں۔ جائے وقوع سے نامہ نگاروں نے بتایا تھا زخمی مظاہرین کا قریب میں میدانِ جنگ کے طرز پر بنائے گئے ہسپتالوں میں علاج کیا گیا ہے۔

عالمی ردعمل

امریکہ نے مصر میں مظاہرین پر حکومتی افواج کے تشدد کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اس کارروائی سے مفاہمت کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور مسئلے کا سیاسی حل اب مزید مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے مصر میں نافذ ہنگامی حالت جلد سے جلد اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ یہ قابلِ افسوس ہے کہ مصری حکام نے بات چیت پر طاقت کے استعمال کو ترجیح دی۔

ترکی نے قاہرہ میں پیش آنے والے واقعات کو قتلِ عام قرار دیا ہے جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اب مصر میں خانہ جنگی کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

یورپی ممالک کی جانب سے بھی مصر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور جہاں فرانس نے تشدد کی مذمت کی ہے وہیں جرمنی کا کہنا ہے کہ حالات ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔