قاہرہ : مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں تصادم

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے کارروائی اس وقت شروع کی جب محمد مرسی کے حامیوں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان تصادم ہوا۔ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں گرہوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا جس کے بعد خواتین اور بچے جائے وقوع سے بھاگنے لگے۔
محمد مرسی کی حکومت کا جولائی میں فوجی قیادت نے تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد عبوری حکومت قائم کی گئی۔

اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی کے حامیوں نے نئی حکومت کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ محمد مرسی کو دوبارہ اقتدار میں لایا جائے۔
منگل کے روز کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب مظاہرین نے ایک ایسے علاقے سے گزرنا چاہا جہاں مقامی لوگوں میں سے اکثر اخوان المسلمین کے مخالف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے وزارتِ میں گھسنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں داخل نہیں ہونے دیا۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ لاکھوں مظاہرین نے محمد مرسی کی برطرفی کے حق میں آواز اٹھائی تھی تاہم ان واقعات نے مصری معاشرے کو منقسم کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مصر میں ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکام نے صدر مرسی کے حامیوں کے جاری دھرنوں کو منتشر کرنے کا منصوبہ موخر کر دیا ہے۔ قاہرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ حکومتی منصوبے کی خبر مزید افراد کی مظاہروں میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی۔
اس سے پہلے مصر کے وزیرِ خارجہ نبیل فہمی نے کہا تھا کہ دھرنوں کو بہت جلد ختم کر دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ان دھرنوں کو قانون کے مطابق منتشر کیا جائے گا۔
اُدھر مصر کی عدلیہ نے ملک کے سابق صدر محمد مرسی کی حراست میں پندرہ دنوں کا اضافہ کر دیا ہے۔







