’ایرانی جوہری پروگرام زیادہ بڑا خطرہ ہے‘

صدر اوباما نے امریکی چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام کیمیائی ہتھیاروں سے ’بہت بڑا معاملہ‘ ہے
،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے امریکی چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام کیمیائی ہتھیاروں سے ’بہت بڑا معاملہ‘ ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے سے ’سبق حاصل‘ کرنا چاہیے۔

صدر اوباما نے امریکی چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام کیمیائی ہتھیاروں سے ’بہت بڑا معاملہ‘ ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ اگرچہ امریکہ نے شام کے معاملے میں طاقت کا استعمال نہیں کیا ہے مگر ’طاقت کے استعمال کی ایک قابلِ یقین دھمکی‘ سے سمجھوتے پر پہنچا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی کے ساتھ خطوط کا تبادلہ کیا ہے۔

بے شک دونوں صدور نے خط و کتابت کی ہے جسے ایک قدم آگے کہا جا سکتا ہے مگر صدر اوباما کہنا تھا کہ نئے ایرانی صدر حالات کو اتنی جلدی نہیں بدل سکیں گے۔

یاد رہے کہ صدر اوباما ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بات کر رہے تھے جس کے بارے میں مغربی ممالک کا خدشہ ہے کہ یہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران ان خدشات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی کے ساتھ خطوط کا تبادلہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی کے ساتھ خطوط کا تبادلہ کیا ہے

اے بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر اوباما نے کہا کہ ایران کو اس بات سے خوش نہیں ہونا چاہیے کہ امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ’انہیں اس سے جو سبق حاصل کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ تنازعات پر امن اور سفارت کاری سے حل ہو سکتے ہیں۔‘

’اگر آپ طاقت کی قابل یقین دھمکی دیں اور اس کے ساتھ ایک سخت سفارت کاری کی کوشش ہو تو آپ ایک سمجھوتے پر پہنچ سکتے ہیں۔‘

صدر روحانی کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک مصالحت پر مبنی خارجہ پالیسی تشکیل دینا چاہتے ہیں جو کہ سابق صدر احمدی نژاد کے برعکس ہے۔

اس مہینے کے آغاز میں صدر روحانی نے ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات وزارتِ خارجہ کے سپرد کر دیے جبکہ اب تک یہ مذاکرات ملک کی سپریم قومی سلامتی کی کونسل کے ذمے تھے جو ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو جوابدہ تھی اور جسے وہی مقرر کرتے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ ایران اب ان مذاکرات میں اپنے سخت گیر موقف میں نرمی دکھائے گا۔