عراق: پرتشدد واقعات جاری، مزید 26 ہلاک

عراق میں حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے کار بم دھماکوں میں کم از کم چھبیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف گزشتہ تین دن میں پرتشدد واقعات میں کم از کم ستتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق اتوار کو دارالحکومت بغداد کے جنوب میں واقع شہر حلہ کی ایک مارکیٹ میں دو کار بم دھماکوں اور ایک دھماکہ گاڑیوں کی ورکشاپ کے نزدیک ہوا ہے۔
اس کے علاوہ بصرہ، شیعہ مسلمانوں کے مقدس شہر کربلا اور ناصریہ میں دھماکے ہوئے ہیں۔
دارالحکومت بغداد میں ایک صوبائی اہلکار کے قافلے کو کار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا اور اس واقعے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔
ایک دن پہلے ہی سنیچر کو عراق کے صوبے نینوا کے دارالحکومت موصل کے قریب ایک جنازے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں بیس سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق سنیچر کو ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس دھماکے کے پیچھے کون ہے؟
اس سے پہلے جمعہ کو بعقوبہ میں ایک سنی مسجد پر ہونے والےایک حملے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں صرف اگست میں 800 افراد ہلاک ہوئے۔
عراق میں موجود القاعدہ نے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر ان کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سکیورٹی حکام اور حکومتی تنصیبات رہی ہیں۔
مگر ایسے واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر شیعہ ملیشیا دوبارہ اکھٹے ہو رہے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا تحفظ کرنے کے لیے تیار ہیں-
شام میں جاری تنازع سے بھی عراق متاثر ہوا ہے جہاں تشدد میں فرقہ واریت کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں عراقی سکیورٹی حکام نے بغداد کے مضافاتی علاقوں سے مبینہ طور پر القاعدہ کے سینکڑوں دہشت گردوں کوگرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاریوں کی مہم کو شیعہ اکثریتی حکومت نے ’شہیدوں کا انتقام‘ قرار دیا ہے۔
اس آپریشن سے جو زیادہ تر سنی اکثریتی علاقوں میں کیا جا رہا ہے سنی بہت غصے میں ہیں اور اس سے تشدد کے واقعات میں کمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔







