عراق میں تشدد کی لہر، پچاس افراد ہلاک

عراق میں رواں سال فرقہ واریت پر مبنی تشدد کے واقعات میں چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنعراق میں رواں سال فرقہ واریت پر مبنی تشدد کے واقعات میں چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

عراق میں حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک اور 160 زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق بدھ کو ہونے والے دس دھماکوں میں شیعہ علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بغداد کے جنوب مشرقی علاقے جیسر دیلیا میں ہونے والے دھماکے میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا جس میں کم از کم سات افراد مارے گئے۔

<link type="page"><caption> ’عراق میں حالات وہ نہیں جن کی توقع تھی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130226_tony_blair_iraq_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

شمالی ضلع خادمیہ میں ہونے والے کئی بم دھماکوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ صدر سٹی کے مضافات میں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ دھماکے مسلمانوں کے سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے کیے ہیں۔

حکام نے تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

عراق میں ماہِ رمضان کے دوران پرتشدد واقعات میں چھ سو ستر افراد ہلاک ہو گئے تھے جو رواں سال کسی ایک ماہ کے دوران ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق جولائی میں پرتشدد واقعات میں 1057 افراد ہلاک ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی تھی۔

عراق میں شیعہ اور سنی مسلک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اور رواں سال اس نوعیت کے واقعات میں کم از کم چار ہزار افراد مارے اور دس ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

سنی آبادی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت میں سنی مسلمانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں سنہ 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے رواں سال سب سے زیادہ خونی رہا ہے۔