عراق دھماکوں میں ساٹھ افراد ہلاک

اس رمضان عراق میں دہشت گردی کے واقعات میں کم از کم 670 افراد ہلاک ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشناس رمضان عراق میں دہشت گردی کے واقعات میں کم از کم 670 افراد ہلاک ہوئے ہیں

عراق میں پولیس کے مطابق عید کے دن متعدد بم دھماکوں میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک اور ایک سو ستّر سے زائد زحمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بغداد میں شیعہ اور سُنی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق دارالحکومت بغداد میں کیفے، مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس میں گیارہ دھماکے ہوئے۔

اس رمضان عراق میں دہشت گردی کے واقعات میں کم از کم 670 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پچھلے چھ ماہ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں سُنی شدت پسندوں نے شیعہ افراد کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سال تقریباً چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ساڑھے نو ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دہشت گردی کے حملوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ دارالحکومت بغداد ہے۔

پولیس کے مطابق بغداد کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک مارکیٹ میں بم دھماکے میں سات افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئے۔

بغداد کے شمال میں ایک خود کش حملے میں دس افراد ہلاک ہوئے۔

اس کے علاوہ کربلا، نصریہ اور کرکک میں بھی دھماکے ہوئے۔

عراق میں شیعہ سنی آبادی میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ سنی آبادی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت میں سنی مسلمانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں سنہ 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے رواں سال سب سے زیادہ خونی رہا ہے۔

عراق میں سنہ 2006 اور 2007 میں شدت پسندی کے واقعات عروج پر تھے تاہم اب ان میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی شدت پسند اکثر اوقات سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔