عراق: تشدد کی لہر جاری، دھماکوں میں 51 ہلاک

عراق میں حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد اور ملک کے دوسرے شہروں میں شیعہ آبادی والے علاقوں میں ہونے والے متعدد کار بم دھماکوں میں کم سے کم 51 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ان حملوں میں 200 سے زیادہ شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے چار مہینوں میں عراق میں تشدد کی اس نئی لہر میں 2500 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ تشدد کی یہ لہر 2008 کے بعد سب سے شدید ہے۔
عراق کی وزارتِ داخلہ نے ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند اسلامی تنظیم القاعدہ پر عائد کی ہے۔
عراق میں شیعہ سنی آبادی میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ سنی آبادی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت میں سنی مسلمانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق بغداد میں ہونے والے دھماکوں میں بم گاڑیوں میں نصب تھے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بازار اور گاڑیاں کھڑی کرنے کے مقامات ان کا نشانہ بنے۔
پیر کے روز سب سے مہلک بم دھماکہ بغداد کے شیعہ علاقے الصدر سٹی میں ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حبیبیہ کے علاقے میں ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’ہم نے دیکھا کہ ایک پک اپ ٹرک آیا اور اسے پارک کیاگیا۔ اس کے بعد دو اور کاریں آئیں۔ کچھ ہی منٹ بعد ایک کار دھماکے سے پھٹ گئی۔‘
بغداد کے ایک اور علاقے محمودیہ میں دھماکے سے دو افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ بغداد کے جنوب مشرقی علاقے کوت میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے عراق کے دوسرے بڑے شہر بصرہ میں بھی بم دھماکے ہوئے ہیں ۔
بی بی سی عربی سروس سے تعلق رکھنے والے حداد صالح کے مطابق رمضان کے مہینے کی شروعات سے ہی بم دھماکوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
خیال رہے کہ عراق میں سنہ 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے رواں سال سب سے زیادہ خونی رہا ہے۔
عراق میں سنہ 2006 اور 2007 میں شدت پسندی کے واقعات عروج پر تھے تاہم اب ان میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی شدت پسند اکثر اوقات سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔







