عراق: تین شہروں میں دھماکے، 70 ہلاک

عراق میں حکام کے مطابق ملک کے جنوب اور مرکز میں ہونے والے سلسلے وار کار بم دھماکوں میں کم سے کم 70افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے ہیں۔
تشدد کی اس نئی لہر میں بغداد سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں سوموار کو شیعہ آبادی والے بازاروں اور بس سٹیشنوں پر متعدد دھماکے ہوئے۔
بصرہ اور سامرہ میں ہونے والوں دھماکوں میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے۔
خیال رہے کہ عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کو ملک میں سیاسی عدم استحکام اور فرقہ وارانہ تناؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد، بصرہ اور سامرہ میں سوموار کو ہونے والے بارہ دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70ہوگئی ہے جبکہ 200 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ان تینوں شہروں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔
دوسری جانب عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے سکیورٹی کی حکمتِ عملی میں فوری تبدیلی کا عزم کرتے ہوئے شدت پسندوں کو متنبہ کیا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کو واپس آنے نہیں دیا جائے گا۔
تشدد کی اس نئی لہر میں بغداد سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں سوموار کو بغداد کی شیعہ آبادی والے علاقوں میں نو دھماکے ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ بصرہ کے شیعہ علاقے میں بھی دو کار بم دھماکے ہوئے جن میں سے ایک دھماکہ ایک ریستوران اور دوسرا ایک بس سٹاپ پر ہوا۔
بصرہ میں ہونے والے بم دھماکے بھی شیعہ آبادی والے علاقے میں ہوئے جن میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔بصرہ کچھ عرصے سے پرامن ہے لیکن اب وہاں بھی فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عراق کے شہر سامرہ میں ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔کسی گروہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں موجودہ صورتحال گزشتہ پانچ سال میں بدترین ہے۔
عراق میں گزشتہ ایک سال سے شیعہ اور سنی آبادی میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ عراق میں شیعہ اکثریت کی حکومت ہے لیکن سنی مسلمانوں کا الزام ہے کہ نوری المالکی کی حکومت ان کے خلاف تفریق کی پالیسی پر گامزن ہے۔
سنی آبادی والے علاقے انبار میں سنیچر کو اغوا ہونے والے دس پولیس اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں۔
گزشتہ ماہ سنی عرب مسلمانوں کے احتجاج مظاہرہ پر پولیس کی فائرنگ سے 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
گزشتہ جمعہ کو بغداد کی سنی آبادی والے علاقے میں ہونے والے تین بم دھماکوں میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
عراق کی حکومت تشدد کی اس لہر کی ذمہ داری سنی مسلمانوں پر عائد کرتی ہے۔







