عراق: تشدد کی تازہ لہر میں 14 سنی جنگجو ہلاک

حکام نے کہا ہے کہ مغربی عراقی شہر فلوجہ کے نزدیک عسکریت پسندوں نے دو حملوں میں القاعدہ مخالف سنّی جنگجوگروپ کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اویکننگ یا بیداری کونسل کے جنگجو جب تنخواہ لینے کے لیے یکجا ہوئے اسی وقت خودکش حملہ آوروں نے ان پر حملہ کر دیا۔
ایک دوسرے واقعے میں تین فوجی اس وقت مارے گئے جب ان کی گاڑی سڑک پر لگائے گئے بم سے ٹکرا گئی۔ یہ حملہ بھی فلوجہ کے قریب ہی ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ حملے بدھ کو ہونے والے بم دھماکوں کی تازہ لہر کے پیش نظر ہوئے ہیں۔
رمضی شہر میں ہوئے ایک دوسرے حملے میں ایک کار بم دھماکے میں دو پولیس اہل کار ہلاک ہوگئے جبکہ بغداد شہر میں شیعہ اکثریت والے علاقے حسینیہ میں ایک علیحدہ کار دھماکے میں تین افراد کی جان چلی گئی ہے۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ شمالی بغداد میں بائجی کے مقام پر سڑک بم دھماکے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ تشدد کی حالیہ لہر میں گزشتہ دو ہفتوں میں 200 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز فلوجہ کے قریب بیداری کونسل کے جنگجو پر ہونے والے حملے میں کم از کم 27 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

واضح رہے کہ سنہ 2006 کے بعد سے ملک میں تشدد کم کرنے میں عراقی سنّیوں کی اس کونسل کا اہم کردار رہا ہے۔
بیداری کونسل کے تحت مقامی جنگجوؤں کو سنّی عقیدے سے تعلق رکھنے والے گروہ القاعدہ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے شام کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ عراق میں تشدد کی واپسی کی وجہ ’خطے میں ایک اور جگہ تشدد کا آغاز ہے۔‘
تقریباً اسی دوران بیداری کونسل کے سربراہ شیخ وسام الہردان نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ لوگ جو فوجیوں کے قتل میں ملوث ہیں انہیں حوالے نہیں کیاگیا تو پھر وہ اس کا خاطرخواہ جواب دیں گے۔
القاعدہ سے منسلک سنّی اسلام پسند جنگجوؤں نے اپنے حملوں میں اضافہ کرکے حکومت کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ ان کے حملے شیعہ کے خلاف زیادہ ہیں لیکن اس سال انہوں نے سنّیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں انتخاب میں حصہ لینے والے 11 امیدواروں کو قتل کر دیا گیا ہے۔
ہرچند کہ حالیہ تشدد کی لہر 2006 او 2007 کے اپنے عروج کے زمانے سے کم ہے لیکن 2011 میں امریکی واپسی کے بعد سے یہ سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر واقع ہو رہا ہے۔







