عراق: امریکی انخلا کے بعد پہلے صوبائی انتخابات

دو ہزار تین میں امریکہ کی جانب سے عراق پر حملے کے بعد سے پہلی بار انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشندو ہزار تین میں امریکہ کی جانب سے عراق پر حملے کے بعد سے پہلی بار انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے

عراقی عوام نے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پہلی بار ملک میں منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات میں ووٹ ڈالے ہیں۔

دو ہزار تین میں امریکہ کی جانب سے عراق پر حملے کے بعد سے پہلی بار انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے جس کی سکیورٹی کے انتظامات عراقی سکیورٹی فورسز کے زمے لگائے گئے تھے۔

ان انتخابات سے پہلے بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت نے دو سنی اکثریت کے صوبوں میں انتخابات ملتوی کر دیے تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے انتخابات کا انتظام کرنے والے حکام کے حوالے سے لکھا ہے ووٹ ڈالنے کی شرح پچاس فیصد تھی اور اب ان انتخابات کے نتائج کا انتظار کیا جائے گا جس میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ سابق صدر صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے عراق میں سیاسی استحکام کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔

ان انتخابات میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل تھے جنہوں نے آٹھ ہزار امیدواروں کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا
،تصویر کا کیپشنان انتخابات میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل تھے جنہوں نے آٹھ ہزار امیدواروں کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا

ان انتخابات میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل تھے جنہوں نے آٹھ ہزار امیدواروں کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جو صوبائی کونسلوں کی تین سو اٹہتر نشستوں کے لیے میدان میں تھے۔

اسی تناسب سے ووٹ دو ہزار نو کے انتخابات میں ڈالے گئے تھے۔

گزشتہ چند ہفتوں میں عراق کے شیعہ اکثریت کے علاقوں میں درجنوں افراد بم حملوں کا نشانہ بنے اس کے علاوہ ان انتخابات میں دو پولنگ سٹیشنوں پر بھی حملے کیے گئے۔

اسی طرح چودہ امیدوار جن میں اکثریت سنی امیدواروں کی ہے بھی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

انتخابات کے دن چند حملوں کی واقعات سامنے آئے جن میں مارٹر گولے اور چھوٹے بم پولنگ سٹیشنز پر پھینکے گئے جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے۔

یہ پہلے انتخابات ہیں جس کی سکیورٹی کے انتظامات عراقی سکیورٹی فورسز کے زمے لگائے گئے تھے
،تصویر کا کیپشنیہ پہلے انتخابات ہیں جس کی سکیورٹی کے انتظامات عراقی سکیورٹی فورسز کے زمے لگائے گئے تھے

وزیر اعظم نوری الماکی نے عوام پر زور دیا کہ وہ ’سیاسی عمل کے دشمنوں‘ کے خلاف اپنی قوت ظاہر کرنے کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال ضرور کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں ان سے کہنا چاہتا ہوں جو عراق کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں اور خوفزدہ ہیں کہ تشدد کے واقعات دوبارہ شروع ہو جائیں گے اور آمریت دوبار آ جائے گی کہ ہم اس سب کا مقابلہ اپنے ووٹ کے استعمال سے کریں گے‘۔

انتخابات کے دن کچھ ووٹروں نے کہا کہ انہیں بنیادی طور پر سکیورٹی کی صورتحال کی سب سے زیادہ فکر ہے۔

انتخابات کے روز سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔