بغداد: شیعہ اکثریتی علاقوں میں دھماکے، 23 ہلاک

شمالی شہر کرکوک میں بھی دھماکوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے
،تصویر کا کیپشنشمالی شہر کرکوک میں بھی دھماکوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے

عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے مختلف شیعہ اکثریت کے علاقوں میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 23 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گیارہ بم دھماکے ایک گھنٹے کے دوران ہوئے اور شمالی شہر کرکوک میں بھی دھماکوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔

گزشتہ کچھ دنوں میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے ساتھ ہی شیعہ اکثریتی حکومت اور اقلیتی سنی فرقے کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔

اپریل ہی کے مہینے میں سات سو سے زیادہ عراقی، شیعہ اور سنی ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 23 افراد بدھ کے روز بغداد میں ہونے والے سلسلہ وار کار بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔

تشدد کے واقعات بغداد کے شمالی مضافاتی علاقوں قدیمیہ اور صدر سٹی اور مشرقی مضافاتی علاقوں مشتعال، بغداد جدید اور الحسینیہ کے علاقوں میں ہوئے۔

ایک پولیس افسر نے ایے ایف پی کو بتایا کہ ’میں نے ایک چمکدار شعلہ دیکھا جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے عمارتیں ہل گئیں اور شیشے ٹوٹ کر ہر طرف بکھر گئے۔ لوگ فوراً بھاگ کر جائے دھماکہ پر گئے اور زخمیوں اور ہلاک شدگان کو نکالنا شروع کیا۔

ایک موٹر سائیکل پر سوار خود کش حملہ آور نے ترمیہ کے قصبے میں ایک پولیس کے گشت پر حملہ کیا۔ یہ قصبہ بغداد کے شمال میں تیس میل کے فاصلے پر ہے اور اس حملے کے نتیجے میں حکام کے مطابق دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

عراق کے تیل سے مالا مال علاقے کرکوک میں سرکاری عمارت کے قریب دو کار بم دھماکوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔

عراق میں سنی اور شیعہ افراد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں سنی اقلیتی فرقہ کے لوگ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت سے شکوں کناں ہیں کہ وہ انہیں ایک طرف دھکیل رہی ہے۔

پانچ مہینے قبل عراق کے سنی اکثریتی علاقوں میں مظاہرے شروع ہوئے اور ہویجہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے سنی مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی سنی مظاہرین ہلاک ہو گئے۔

ہویجہ کے واقعے کے بعد سے ملک کے اکثر علاقوں میں تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ملک 2006 اور 2007 کے فرقہ وارانہ تشدد کی روش پر دوبارہ نہ چل پڑے۔