عراق: بعقوبہ میں بم حملہ، 30 افراد ہلاک

بم حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی کا ملبہ
،تصویر کا کیپشنبم حملہ بقوبہ میں ایک سنی مسجد کے باہر ہوا

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی شہر بعقوبہ میں ایک سنی مسجد پر بم حملے میں تیس افراد ہلاک اور پچیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے نصب دو بم اس وقت پھٹے جب جمعہ کی نماز کے بعد نمازی ال سلام مسجد سے نکل رہے تھے۔

پہلا دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازی مسجد سے نکل رہے تھے جبکہ دوسرا دھماکہ اُس وقت ہوا جب لوگ جائے وقوعہ پر مدد کے لیے جمع ہوئے-

اے ایف پی کے مطابق شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نے مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی-

یہ پچھلے تین دنوں میں بقوبہ میں دوسرا حملہ ہے اور ابھی تک یہ واضع نہیں ہو سکا کہ ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے-

بعقوبہ شہر بغداد سے پینتیس میل دور ہے اور اس میں حالیہ دنوں میں تشدد کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔

پچھلے کچھ مہینوں میں ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس سال پانچ ہزار افراد ان حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے آٹھ سو افراد صرف اگست کے مہینے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں موجود القائدہ نے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر ان کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سیکیورٹی حکام اور حکومتی تنسیبات رہی ہیں-

مگر ایسے واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر شیعہ ملیشیا دوبارہ اکھٹے ہو رہے ہیں اور انہوں نے خبر دار کیا ہے کہ وہ اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا تحفظ کرنے کے لیے تیار ہیں-

حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اپریل میں ہوائجا کے قریب سنی ارب نامی حکومت مخالف احتجای کیمپ پر آرمی نے حملہ کیا۔

مظاہرین شیعہ وزیراعظم نوری مالکی کے استعفٰی کا مظالبہ کر رہے تھے اور حکام کی جانب سے سنی اقلیت کے خلاف کاروائی کی مزمت کر رہے تھے۔

شام میں جاری تنازعے سے بھی عراق متاثر ہوا ہے جہاں تشدد میں فرقہ واریت کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں عراقی سکیورٹی حکام نے بغداد کے مضافاتی علاقوں سے مبینہ طور پر سینکڑوں القائدہ کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔

اس گرفتاریوں کی مہم کو شیعہ اکثریتی حکومت نے ’شہیدوں کا انتقام‘ قرار دیا ہے۔

اس آپریشن سے جو زیادہ تر سنی اکثریتی علاقوں میں کیا جا رہا ہے سنی بہت غصے میں ہیں اور اس سے تشدد کے واقعات میں کمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔